.

شام کو اسلحہ دینے کا معاملہ کبھی نہیں چھپایا: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے کہا ہے کہ اس نے شام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے اسلحہ اور فوجی سازوسامان مہیا کرنے کا معاملہ کبھی نہیں چھپایا ہے۔

یہ بات روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخاروا نے سوموار کو ماسکو میں نیوزبریفنگ کے دوران کہی ہے۔انھوں نے بتایا ہے کہ وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کو ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران بتا دیا ہے کہ شام میں روس کی فوجی کارروائیوں میں شرکت کے بارے میں بات کرنا قبل ازوقت ہے۔

شام کے ایک فوجی عہدے دار نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے نئے ہتھیار مہیا کرنے اور تربیت دینے کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ہمارے تعلقات ہمیشہ فروغ پذیر رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں روسی مؤقف میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے''۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے حالیہ دنوں میں اپنے ملک کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بشارالاسد ہی شام کے حقیقی اور جائز لیڈر ہیں۔انھوں نے امریکا کے شام سے متعلق موقف پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا منفی ردعمل ہوگا۔انھوں نے شام میں مغرب کی حکمت عملی کو عراق اور لیبیا میں اس کی ناکامیوں سے مشابہ قرار دیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز شام میں روس کی جانب سے فوجی اور لڑاکا طیارے بھیجنے سے متعلق اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ''سیکریٹری نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو ان اقدامات سے تنازعے کو مزید بڑھاوا ملے گا۔اس سے بے گناہوں کی مزید جانوں کا ضیاع ہوگا،بے گھر ہونے والی شامی مہاجرین تعداد میں اضافہ ہوگا اور شام میں داعش کے خلاف بروئے کار اتحاد کے ساتھ محاذ آرائی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے''۔