.

مصر: وزیر زراعت بدعنوانی کے الزام میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے وزیر زراعت کو عہدے سے مستعفی ہونے کے فوری بعد کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

ان کی گرفتاری سے قبل مصری وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایت پر وزیرزراعت صلاح الدین محمود ہلال کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔

تاہم اس بیان میں وزیرزراعت کی رخصتی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے اور ان پر بدعنوانی کے الزام کی تفصیل سامنے لائی گئی ہے۔واضح رہے کہ مصر اس وقت دنیا میں گندم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔

جولائی میں مصری وزارتِ زراعت نے ملکی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے کپاس کی درآمد پر پابندی عاید کردی تھی۔مصر میں بہت اعلیٰ درجے کی لمبے ریشے والی کپاس پیدا ہوتی ہے اور ایک وقت میں اس کو''سفید سونا'' کہا جاتا تھا لیکن گذشتہ برسوں کے دوران اس کی پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔

وزارت نے پابندی کا اعلان کرتے وقت کہا تھا کہ وہ مصری کپاس کی تمام سطحوں پر دوبارہ ''عظمت رفتہ'' بحال کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن آٹھ دن کے بعد مصری کابینہ نے اس فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔اس نے اس کی کوئی وجہ تو نہیں بتائی تھی اور صرف یہ کہا تھا کہ ملک میں کپاس کی کاشت کو فروغ دینے اور اپنے کاشت کاروں کی مدد کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔

ٹیکسٹائل کی مصنوعات تیار کرنے والے صنعت کاروں نے بھی کپاس کی درآمد پر پابندی کے خلاف مہم چلائی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو وہ درآمد کی جانے والی سستی کپاس سے محروم ہوجائیں گے۔