.

پناہ گزینوں کی مدد یورپی ملکوں کی ذمہ داری ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہاں آنے والے شامی پناہ گزینوں اور دوسرے ملکوں کے تارکین وطن پناہ دینے میں کسی بخل سے کام نہ لیں کیونکہ یہ ان کی انسانی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پناہ گزینوں کی امداد اور ان کی آباد کاری پوری دنیا بالخصوص یورپی ملکوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

خیال رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ یورپ کی طرف نقل مکانی کوئی آسان کام نہیں بلکہ جان پر کھیل کر لوگ یورپی ملکوں کی طرف جا رہے ہیں۔

ہفتے کے روز اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال جنوری سے اب تک بحر متوسط سے 3 لاکھ 66 ہزار 402 پناہ گزینوں نے یورپی ملکوں کی جانب نقل مکانی کی کوشش کی۔ اس دوران 2800 پناہ گزین سمندر میں حادثات کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ یورپی ملکوں کی انتظامیہ نے سمندر میں پھنسے پناہ گزینوں کو نکالنے میں ان کی مدد کی اور کئی ممالک نے پناہ گزینوں کو عارضی قیام کی سہولت بھی دی ہے۔ اس کار خیرمیں تمام یورپی ممالک کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

ہنگری کے نئے سفیر سے ملاقات کے دوران صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران بھی کئی پڑوسی ملکوں کے پناہ گزینوں با بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی ایران میں افغانستان، عراق اور دوسرے ممالک کے ہزاروں پناہ گزین موجود ہیں۔

صدر روحانی نے الزام عاید کیا کہ اس وقت پناہ گزینوں کا مسئلہ شام میں انتہا پسند گروپوں کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ انتہا پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے خوف سے لاکھوں لوگ ملک چھوڑنے پرمجبور ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ہنگری کو وسطی اور مشرقی ایشیا سے آنے والے مہاجرین کے یورپ میں داخلے کا اہم ترین راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شام سے نقل مکانے کرنے والے شہری پہلے ہنگری داخل ہوتے ہیں جہاں سے وہ دوسرے یورپی ملکوں کی طرف نقل مکانی کرتے ہیں۔ صرف اگست کے دوران 50 ہزار افراد ہنگری پہنچے جن کی اگلی منزل جرمنی اور مغربی یورپ کے دوسرے ملک ہیں۔ پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر ہنگری کے وزیراعظم ویکٹور اوربان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مزید مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ نہیں دے گا۔ شدت پسند خیالات کے حامل مسٹر ویکٹور کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ سے لاکھوں مسلمان پناہ گزینوں کی آمد سے یورپ اپنا مسیحی تشخص کھو دے گا۔