.

فلسطینی قوم کو متحد ہونا ہوگا: خالد مشعل

فتح کی قیادت کو کسی بھی عرب ملک میں ملاقات کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی سیاسی ومزاحمتی تنظیم حماس کے رہنما خالد مشعل نے فلسطینیوں میں اتحاد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی رہنمائوں کے درمیان 20 سال کے دوران پہلی ملاقات کو کسی سمجھوتے تک ملتوی کردینا چاہئیے ہے۔

خالد مشعل نے قطری دارالحکومت دوحہ میں ایک نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسلام پسند تحریک حماس اور سیکولر تنظیم فتح کو ایک مشترکہ موقف سامنے رکھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا "ہم بطور فلسطینی آپس میں تقسیم کا شکار ہیں، ہمارے درمیان اتھارٹی کا فقدان ہے۔ کسی بھی فلسطینی رہنما کی جانب سے اس عمل کا اظہار ناقابل یقین اور ناقابل قبول ہے۔"

خالد مشعل کا کہنا تھا کہ" مسئلہ فلسطین حماس یا فتح دونوں ہی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔" مگر انہوں نے کہا کہ اسی ماہ میں فلسطینی رہنمائوں کی طے شدہ ملاقات کو ملتوی کردینا چاہئیے۔"

مشعل کا کہنا تھا کہ "اس ملاقات میں ان قوانین اور ضوابط پر بات کی جانی چاہئیے جن پر ہم اتفاق کرسکے نہیں تو اس کے علاوہ کسی بھی موضوع پر بحث سے فلسطینیوں کے درمیان تقسیم مزید بڑھ جائیگی۔"

انہوں نے کہا کہ حماس اپنی حریف جماعت فتح سے کسی بھی عرب ملک میں ملنے کو تیار ہے۔

اس سے پہلے پیر کے روز فلسطینی رہنمائوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ارادوں کی بھنک پڑنے پر اس ملاقات کو ملتوی کرنے کی کوشش کی تھی۔

مقبوضہ فلسطین اور تارکین وطن کی قیادت کی نمائندہ فلسطینی نیشنل کونسل کی اس ملاقات کو 14٫15 ستمبر کے دوران منعقد ہونا تھا مگر اب نئی تاریخ کا جلد اعلان کیا جائیگا۔ محمود عباس نے حال ہی میں فلسطینی اتھارٹی [پی ایل او] کے چئیرمین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا تاکہ اس کی ایگزیکیٹو کمیٹی کا نیا الیکشن فوری طور پر کروایا جاسکے۔

محمود عباس اور ان کے ساتھ شامل دیگر افراد کے اس 18 رکنی کمیٹی سے استعفیٰ فلسطینی نیشنل کونسل کی اس میٹنگ میں ہی منظور کئے جاسکتے ہیں جس میں تقریبا 700 افراد شامل ہوتے ہیں۔

عباس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ محمود عباس کے اس قدم کا مقصد فلسطینی قیادت میں جوان خون کو شامل کرنا ہے۔ مگر ان کے ناقدوں کا کہنا ہے کہ 80 سالہ محمود عباس اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے اتحادیوں کو مضبوط اور اپنے حریفوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔