.

یمن کے وسطی صوبے مآرب میں عرب فوجی تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق تین عرب ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کو یمن کے وسطی صوبے مآرب میں تعینات کردیا گیا ہے۔

مآرب حوثی باغیوں کے آبائی شہر صعدہ اور دارالحکومت صنعا کے درمیان واقع ہے۔اس صوبے میں جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان گذشتہ کئی روز سے لڑائی ہورہی ہے۔یہ صوبہ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے اور یہیں بجلی پیدا ہوتی ہے جو پورے ملک کو مہیا کی جاتی ہے۔

العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ یمن میں بہت جلد سوڈانی فوجیوں کی آمد بھی متوقع ہے اور اس کے قریباً چھے ہزار فوجی یمن میں تعیناتی کے لیے تیار ہیں۔

یمن میں عرب فوج کی تعیناتی کی خبر حوثی باغیوں کے گذشتہ جمعہ کے روز مآرب میں ایک فوجی اڈے پر سوویت دور کے بیلسٹک میزائل کے حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔اس حملے میں خلیجی عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے ساٹھ فوجی مارے گئے تھے۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ کویت اور مصر کی فوجیں بھی یمن میں عرب اتحاد کی کمک کے طور پر بھیجی جارہی ہیں۔درایں اثناء سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ذرائع نے پان عرب اخبار الشرق الاوسط کو بتایا ہے کہ آیندہ دنوں میں یمن کے دوسرے علاقوں میں بھی عرب فوج تعینات کردی جائے گی۔

عرب اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں نے منگل کے روز صنعا میں حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں پر نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ یمنی فورسز اور عرب اتحادی بہت جلد اس شہر پر قابض حوثیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک مشترکہ فیصلہ کن کارروائی کرنے والے ہیں۔

عرب اتحاد میں شامل ریاستوں کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ کے خاتمے کے لیے یمن میں جنگ لڑرہے ہیں۔جلاوطن یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور خلیجی فوجیوں نے جولائی میں یمن کے جنوبی شہرعدن سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے دوسرے جنوبی اور وسطی شہروں سے بھی حوثیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کو پسپا کردیا تھا۔اب حوثی باغی اور ان کے اتحادی گروپ یمن کے شمالی شہروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور عرب فوج کی بیک وقت زمینی اور فضائی کارروائی کی صورت میں وہ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کرسکیں گے۔