.

'صنعاء میں ایرانی سفارت خانہ حوثیوں کا آپریشن کنٹرول روم'

سفارت خانے سے باغیوں میں رقوم بانٹی جاتی ہیں: یمنی زیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ ریاض یاسین نے الزام عاید کیا ہے کہ صنعاء میں قائم ایرانی سفارت خانہ حوثی باغیوں کی امداد کا مرکز اور آپریشن کنٹرول روم کا کردار ادا کررہا ہے، جہاں سے باغیوں کو مالی معاونت کے ساتھ ساتھ جدید مواصلاتی آلات کے ذریعے بھی مدد کی جاتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک عربی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ریاض یاسین عبداللہ کا کہنا تھا کہ صنعاء میں قائم ایرانی سفارت خانے سے حوثی باغیوں کو فوجی سازو سامان، انٹیلی جنس معلومات اور محاذ جنگ میں لڑنے کے لیے صلاح مشورے بھی دیے جاتے ہیں۔ یوں صنعاء میں قائم ایرانی سفارت خانہ حوثی باغیوں کا آپریشن کنٹرول روم بن چکا ہے۔

وزیرخارجہ نے تسلیم کیا کہ تمام تر فضائی اور زمینی ناکہ بندی کے باوجود صنعاء میں ایرانی سفارت خانے میں ہونے والی سرگرمیاں یمنی حکومت کی توقع سے بھی زیادہ ہیں۔ سفارت خانے کے اندر انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کے ساتھ جنگی آپریشینز کے حوالے سے غیرمعمولی سرگرمیاں جاری ہیں۔ یہیں سے حوثی ملیشیا میں رقوم بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران جدید ترین مواصلاتی آلات سے لیس ہے اور اس نے وہی جدید آلات صنعاء میں اپنے سفارت خانے میں بھی لگا رکھے ہیں جو حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی ملیشیا کے لیے باہم رابطے کا ذریعہ ہیں