.

ایرانی سفیر کی صنعاء سے واپسی کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں متعین ایران کے سفیر کی اپنے ملک واپسی کی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ 'العربیہ' نیوز چینل کو اپنے ذرائع سے یہ اطلاع ملی ہے کہ ایرانی سفیر سفارتی عملے کے ہمراہ سلطنت آف اومان کے توسط سے صنعاء سے نکل گئے ہیں تاہم سرکاری سطح پر اس خبر کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

'العربیہ' کے مطابق ایرانی سفیر کی دیگر سفارتی عملے کے ساتھ صنعاء سے واپسی کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ روز یمنی وزیرخارجہ ریاض یاسین نے صنعاء میں قائم ایرانی سفارت خانے کو حوثی باغیوں کا آپریشن کنٹرول روم قرار دیا تھا۔

ادھر یمن میں محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ صنعاء کوحوثیوں سے آزاد کرانے کے لیے آپریشن تیز کردیا گیا ہے جس کے نتیجے میں باغیوں کے گرد گھیرا تنگ ہوچکا ہے۔

فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ آئینی حکومت کی حامی ملیشیا اور فوج مآرب سے صنعاء کی طرف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف صعدہ گورنری میں الجوف کو باغیوں سے چھڑانے کے بعد اس محاذ سے بھی صنعاء کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔ صنعاء کی طرف پیش قدمی کا تیسرا راستہ البیضاء سے دمار تک کا علاقہ ہے جو صنعاء سے نوے کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔ مآرب میں عرب ممالک کی متحدہ فوج کے چھاتہ بردار دستے بھی اتارے گئے ہیں جو باغیوں کی زمینی پیش قدمی میں مدد کریں گے۔