.

'یورپی یونین مہاجروں پر پالیسی میں فوری تبدیلیاں کرے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی عالمی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے یورپی ممالک کی جانب سے پناہ گزینوں کے حوالے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے یورپی رہنمائوں کے ردعمل کو سست اور بے ربط قرار دیا۔

بدھ کے روز یورپی کمیشن کی جانب سے یورپی ریاستوں کے لئے پناہ گزینوں کے لازمی کوٹوں کی تجاویز کے اعلان سے پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے تئیں پانچ نکاتی منصوبہ جاری کیا ہے جس کے ذریعے سے اس بحران کو حل کیا جاسکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے یورپ اور وسطیٰ ایشیا کے لئے ڈائریکٹر جان ڈلحیسن کا کہنا تھا "یورپ میں آنے والے پناہ گزینوں کو جس سطح کی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ایسا دوسری جنگ عظیم سے نہیں دیکھا گیا ہے۔"

جان کا کہنا تھا "یورپ میں جاری اس مہاجرین کے بحران کے ردعمل میں انتہائی سست اور بے ربط اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ ایسے وقت میں یورپ میں ایک دور اندیش قیادت اور سیاسی پناہ کے نظام میں انقلابی اصلاحات کی ضرورت ہے۔"

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یورپی رہنمائوں پر زور دیا کہ وہ فرنٹ لائن پر موجود یورپی رکن ممالک کی مدد میں مزید اضافہ کریں، یورپ کی سرحدوں پر موجود ریاستوں میں آنیوالے مہاجرین کو یورپی یونین کی زمین تک رسائی کو یقینی بنائیں اور سرحدی ممالک پر پڑںے والے اس بوجھ کو آسان کرنے کے لئے ہنگمی نقل مکانی کی منصوبہ بندی کریں۔

ایمنسٹی کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یورپی رہنمائوں کو پناہ گزینوں کی یورپ کے اندر نقل وحرکت پر پابندی لگانے والے قوانین پر بھی نظر ثانی کرنی چاہئیے ہے اور اس کے علاوہ یورپ کی سرحد پر موجود ممالک کو مہاجرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہئیے ہے۔

لندن میں قائم اس گروپ کا اندازہ ہے کہ اگلے دو سال کے دوران پوری دنیا میں تقریبا 13 لاکھ 80 ہزار جگہوں پر ان مہاجرین کو بسانے کے لئے نقل مکانی کے عمل کی ضرورت پڑے گی۔ اور اس نے یورپی ممالک سے اسی عرصے کے دوران 3 لاکھ اقامت گاہوں کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان میں پناہ گزین کو بسایا جاسکے۔

ایمنسٹی کے بیان میں کہا گیا تھا کہ "پناہ گزینوں کا یہ بحران صرف یورپ کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت عالمی ہے۔ یورپی رہنما اس بحران کے منفی اثرات کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں۔