اقوام متحدہ کے باہر فلسطینی پرچم کشائی پر ووٹنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ فلسطینیوں کی جانب سے ایک آزاد ریاست کے قیام کے مطالبات کو کچھ حد تک تسلیم کرتے ہوئے نیویارک میں موجود اپنے مرکزی دفتر کے باہر فلسطینیوں کو اپنا جھنڈا لہرانے کی اجازت دے دیگا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس عمل کی اجازت کے لئے ایک قرارداد پر مقامی وقت کے مطابق دن میں 3 بجے ووٹنگ کی جائے گی۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ 193 ارکان کے اس فورم پر اس قرارداد کو بغیر کسی مشکل کے اکثریت کا ووٹ حاصل ہوجائیگا۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے نمائندے ریاض منصور کا کہنا ہے "ایک علامتی عمل ہے مگر اس عمل سے بین الاقوامی سطح پر فلسطینی ریاست کے قیام کے موقف کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔"

اس قرارداد کی مدد سے مبصر ریاستوں کا سٹیٹس رکھنے والے ممالک فلسطین اور ویٹیکن کے جھنڈوں کو رکن ممالک کے ہمراہ لہرا دیا جائے گا۔

اگر یہ قرار داد منظور کر لی گئی تو اقوام متحدہ کے پاس اس پر عمل درآمد کے لئے 20 دنوں کا وقت ہوگا جس کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس کا دورہ نیویارک بھی ہوجائیگا۔

منصور کا کہنا تھا کہ اس عمل سے فلسطینی عوام کو کچھ امید ملے گی کہ بین الاقوامی برادری ابھی تک ان کی آزاد ریاست کی جدوجہد کی حمایت کرتی ہے۔

امریکا اور اسرائیل دونوں ہی نے اس قرار داد کی سخت مخالفت کی ہے اور اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر نے اس عمل کو اقوام متحدہ پر قبضہ کرنے کھلی سازش قرار دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے اس قرار داد کو امن عمل کے لئے غیر سود مند قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2012ء میں فلسطین کو غیر رکن مبصر ملک کا درجہ دے دیا تھا۔ ویٹیکن کا کہنا تھا کہ وہ جنرل اسمبلی کے فیصلے کی قدر کرے گا مگر انہوں نے بیان میں ذکر کیا کہ اقوام متحدہ کی روایات کے مطابق صرف رکن ممالک کے جھنڈے ہی اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر لہرائے جاسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں