بد امنی کی وجہ سے ترکی میں عام انتخابات ناممکن :ایچ ڈی پی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکی کی کرد نواز حزبِ اختلاف کی ایک بڑی جماعت کے سربراہ نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد یکم نومبر کو عام انتخابات کے انعقاد کو ناممکن قرار دے دیا ہے۔

ترک حکومت اور علاحدگی پسند جنگجو گروپ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کے درمیان جولائی میں جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور کم وبیش روزانہ ہی کرد باغیوں اور ترک سکیورٹی فورسز کے درمیان ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں جھڑپیں ہورہی ہیں یا پھر کرد باغی سکیورٹی فورسز پر بم حملے کررہے ہیں۔

کرد نواز جماعت پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کے سربراہ صلاح الدین دیمریطس نے جنوب مشرقی شہر دیاربکر میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ''علاقے میں سکیورٹی کی صورت حال کے پیش نظر انتخابات کا انعقاد ناممکن نظر آرہا ہے۔ہم انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں اور یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ انتخابات نہیں ہوسکتے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ علاقے میں انتخابات کے انعقاد کے لیے صورت حال سازگار بنائی جائے''۔

درایں اثناء امریکا نے ترکی کی بڑی کرد جماعت کے خلاف ازدحامی تشدد کی مذمت کی ہے لیکن اس نے کسی کو اس تشدد کا ذمے دار نہیں ٹھہرایا ہے۔اس نے کرد باغیوں کے ترک فورسز پر حملوں کی بھی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ سرکاری فورسز اور کرد باغیوں کے درمیان حالیہ لڑائی کے ردعمل میں عوام کے غیظ وغضب میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اس ہفتے کے دوران کرد باغیوں کے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں پر تباہ کن بم حملوں کے بعد قوم پرستوں نے ایچ ڈی پی کے حامیوں اور دفاتر پر حملے کیے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ایچ ڈی پی اور روزنامہ حریت کے دفاتر میں توڑ پھوڑ بالکل ناقابل قبول ہے۔اس نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورت حال پر قابو پائے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''ایک جمہوریت میں متشدد احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور خاص طور پر نسلی بنیاد پر تو بالکل بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ہم ترک حکام سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ترکی کی بنیادی اقدار ،جمہوری بنیادوں اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ آزادیوں کا احترام کریں گے''۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ''ہم پی کے کے کے دہشت گردوں کے حالیہ بم حملوں کی مذمت کرتے ہیں جن میں سولہ فوجیوں اور بارہ پولیس افسروں کی جانیں چلی گئی تھیں۔اس سے تشدد کے واقعات میں اضافے کی بھی عکاسی ہوتی ہے اور اس سے پُرامن طور پر زندگیاں گزارنے کے خواہاں کردوں کے نصب العین کو بھی نقصان پہنچے گا''۔

ترکی کے مشرقی صوبے اجدیر میں منگل کے روز ایک منی بس پر بم حملے میں بارہ پولیس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھی۔ترک فورسز پراس ہفتے کے دوران یہ دوسرا تباہ کن بم حملہ تھا۔گذشتہ ہفتے کے روز کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقے میں ایک بم دھماکے میں سولہ فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے ردعمل میں ترکی کے لڑاکا طیاروں نے منگل کو علی الصباح علاحدگی پسند کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی تھی جس میں کم سے کم چالیس باغی ہلاک ہوگئے تھے۔سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد ترک حکومت نے کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے باغیوں کے قلمع قمع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں