جرمنی میں جنوری کے بعد ساڑھے چار لاکھ پناہ گزینوں کی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی کے وائس چانسلر سگمار جبرائیل کا کہنا ہے کہ رواں سال کے دوران اب تک قریباً ساڑھے چار لاکھ مہاجرین اور تارکین وطن کی ملک میں آمد ہوچکی ہے اور ستمبر کے پہلے آٹھ روز کے دوران سینتیس ہزار غیرملکی پناہ کی تلاش میں پہنچے ہیں۔

انھوں نے پارلیمان میں جمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگست میں ایک لاکھ پانچ ہزار تارکین وطن جرمنی آئے تھے اور ستمبر میں مزید ایک لاکھ افراد کی آمد متوقع ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر دیانت داری سے بات کی جائے تو یورپ بھر میں سولہ لاکھ مہاجرین کی تقسیم پہلا قدم ہے''۔وہ یورپی کمیشن کے سربراہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز کا حوالہ دے رہے تھے جس میں یورپی یونین کے تمام رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ نئے آنے والے تارکین وطن کو اپنی وسعت اور گنجائش کے مطابق پناہ دیں۔

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے جنگ زدہ شام اور دوسرے ممالک سے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی جوق درجوق آمد کے پیش نظر یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مہاجرین کو کسی ایک ملک میں بسانے پر کوئی حد مقرر نہیں کی جانی چاہیے بلکہ ان کو تمام ممالک میں متناسب شرح سے تقسیم کیا جائے۔

انھوں نے بدھ کے روز پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ''ہم کوئی تعداد مقرر نہیں کرسکتے ہیں اور پھر اس کے بعد یہ کہیں کہ اس سے زیادہ تعداد کو قبول نہیں کیا جائے گا''۔توقع ہے کہ جرمنی اس سال پناہ کے لیے آنے والے آٹھ لاکھ تارکین وطن اور مہاجرین کو خوش آمدید کہے گا۔یہ تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے اور یہ کسی دوسرے یورپی ملک سے بھی زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں