روس شام سے متعلق مزید اقدامات کرے گا:وزیرخارجہ لاروف

روسی پروازوں کے ذریعے شام میں فوجی آلات اور انسانی امداد بھیجی جارہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے بارے میں ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کرے گا۔انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ روس سے شام کے لیے انسانی امداد لے جانے والے طیاروں کے ذریعے فوجی آلات بھیجے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ روسی فوجی گذشتہ کئی برسوں سے شام میں موجود ہیں۔انھوں نے یہ بیان امریکا اور بعض یورپی ممالک کی جانب سے روس کے مال بردار طیاروں کی شام کے لیے پروازوں میں اضافے پر تشویش کے بعد جاری کیا ہے۔

روس قبل ازیں اس بات پر اصرار کرتا رہا ہے کہ شام کے لیے اس کی پروازوں کے ذریعے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان بھیجا جارہا ہے۔امریکا نے حالیہ دنوں کے دوران یونان اور بلغاریہ پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ شام جانے والے روسی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

درایں اثناء کریملن نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں نے شام میں حکومت مخالف جنگجو گروپوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینا شروع کردیا ہے۔لبنان میں ذرائع نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ روسی فوجی شام میں جنگی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

صدر بشارالاسد کے مخالفین یورپی اور بعض عرب ممالک اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ روس شام میں اپنی فوجی طاقت مجتمع کررہا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ شام کے لیے اس کی تمام فوجی امداد بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ ''دولت اسلامیہ (داعش) سے درپیش خطرہ واضح ہے اور شام کی مسلح افواج ہی اس جنگجو گروپ کی مزاحمت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔روس کا یہ موقف ہے کہ اس سخت گیر گروپ کا مقابلہ کرنے کے لیے بشارالاسد کو بین الاقوامی کاوشوں کا حصہ ہونا چاہیے''۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسی ماہ کی جانے والی اپنی تقریر میں شام اور داعش سے متعلق اظہار خیال کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ ابھی ولادی میر پوتین اور صدر براک اوباما کے درمیان نیویارک میں کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے۔

روس کے موقر روزنامے کمرسانت نے اپنی جمعرات کی اشاعت میں اطلاع دی ہے کہ شام کو مہیا کیے جانے والے اسلحے اور فوجی سازوسامان میں ماسکو کی جدید بی ٹی آر 82 اے بکتربند گاڑیاں بھی شامل ہیں۔شام کے ایک فوجی عہدے دار نے اگلے روز رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کی جانب سے نئے ہتھیار مہیا کرنے اور تربیت دینے کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ہمارے تعلقات ہمیشہ فروغ پذیر رہے ہیں لیکن حالیہ دنوں میں روسی مؤقف میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں