سعودی اتحادیوں کے لڑاکا طیاروں کی صنعا پر تباہ کن بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے ٹھکانوں پر جمعرات کو تباہ کن بمباری کی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق گذشتہ پانچ ماہ کے دوران شہر میں یہ سب سے تباہ کن بمباری ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے سیاسی لیڈروں کے مکانوں اور فوجی ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے۔شہر میں ساری رات ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجنے کی آوازیں گونجتی رہی ہیں۔

اتحادی فورسز نے یمن میں پہلی مرتبہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کے دوران اپاچی ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کیا ہے۔اپاچی ہیلی کاپٹروں سے وسطی صوبے مآرب میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر فائرنگ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم تیس حوثی باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔

مآرب میں دو روز قبل ہی تین عرب ممالک سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات اور قطر نے حوثیوں کے خلاف لڑائی کے لیے اپنے فوجی تعینات کیے ہیں۔اس صوبے میں جلاوطن صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان گذشتہ کئی روز سے لڑائی ہورہی ہے اور حوثی ان کی شدید مزاحمت کررہے ہیں۔یہ صوبہ تیل اور گیس کی دولت سے مالا مال ہے اور یہیں بجلی پیدا ہوتی ہے جو پورے ملک کو مہیا کی جاتی ہے۔

عرب اتحاد میں شامل ریاستوں کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں ایران کے اثرورسوخ کے خاتمے کے لیے یمن میں جنگ لڑرہے ہیں۔جلاوطن یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز اور خلیجی ممالک کے فوجیوں نے جولائی میں یمن کے جنوبی شہرعدن سے حوثی باغیوں کو نکال باہر کیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے دوسرے جنوبی اور وسطی شہروں سے بھی حوثیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجیوں کو پسپا کردیا تھا۔اب حوثی باغی اور ان کے اتحادی گروپ یمن کے شمالی شہروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں لیکن وہ ان علاقوں میں یمنی فورسز اور عرب اتحادی فوج کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں