فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والوں کے قریب پہنچ گئے: اسرائیل

ناکافی شواہد کے باعث گرفتاری سے گریز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتیس جولائی 2015ء کو غرب اردن کے نابلس شہر میں دوما کے مقام پر ایک فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والے یہودی انتہا پسندوں کے قریب پہنچ گئے ہیں تاہم عدالت میں انٹیلی جنس ذرائع کے افشاء ہونے کے ڈر سے انہیں گرفتار نہیں کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی وزیردفاع نے لیکوڈ پارٹی کے ارکان کے ایک بند کمرہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والوں کے تعاقب میں ہیں اور ان کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اس حوالے سے مزید چھان بین کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذریعے سے اطلاع ملی ہے کہ فلسطینی خاندان کو زندہ جلانے والے دہشت گردوں کو گرفتار نہ کرنے کی ایک وجہ اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر کے پاس ملزمان کے خلاف عدالت میں ٹرائل شروع کرنے کے لیے ثبوت بھی ناکافی ہیں، جس کی بناء پرانہیں حراست میں نہیں لیاجا رہا ہے۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل اسرائیلی فورسز نے تین انتہا پسند یہودیوں کو حراست میں لیاتھا۔ ان میں ایک کی شناخت "مائیر اتنگر" کے نام سے کی گئی تھی جو مبینہ طور پر اس انتہا پسند گروپ کا سرغنہ ہے جو فلسطینیوں کےخلاف پرتشدد کارروائیوں میں پیش پیش رہا ہے۔ اس کے دو دیگر ساتھیوں مردہ آئی مائیر اور افیٹار سالونیم کو چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے تاہم ان کی گرفتاری کی وجوہات بیان نہیں کی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ اکتیس جولائی کو رات کے پچھلے پہر انتہا پسند یہودیوں نے نابلس کے نواحی قصبے دوما میں ایک مکان پر آتش گیر مواد چھڑک کراسے آگ لگا دی تھی جس کےنتیجے میں مکان میں موجود سعد دوابشہ، اس کی بیوی اور دو بچے زندہ جل گئے تھے۔ اٹھارہ ماہ کا علی دوابشہ موقع پرہی جام شہادت نوش کرگیا جب کہ اس کا والد ایک ہفتے بعد اور والدہ پانچ ستمبر کو اسپتال میں دم توڑ گئی تھی۔ زندہ جلائے گئے خاندان میں ایک چار سالہ بچہ زندہ ہے جو تاحال اسپتال میں ہے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی حالت بھی بدستور تشویشناک ہے۔ انتہا پسند یہودیوں کی اس وحشیانہ کارروائی پرعالمی سطح پر شدید رد عمل سامنےآیا تھا۔ اسرائیلی حکومت نے بھی واردات کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کوانسداد دہشت گردی قانون کے تحت سزا دینے کا اعلان کیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند اسرائیلیوں کی پرتشدد کارروائیوں پر ریاست کی جانب سے قانونی کارروائی سے گریز پر کڑی تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مساجد، امام بارگاہوں اور چرچوں پرہونے والے85 فیصد حملوں کے واقعات میں ملوث یہودیوں کو حراست میں نہیں لیا گیا جس کے نتیجے میں فلسطینیوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر واقعات سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے اندر وقوع پذیر ہوتے رہے ہیں۔ حال ہی میں یہودی شرپسندوں نے فلسطینی شہریوں کے چار مکانوں کو آگ لگا کر خاکستر کردیا تھا۔ اس کارروائی میں ملوث یہودیوں کوحراست میں نہیں لیا گیا اور مجزم دندناتے پھر رہے ہیں۔ پچھلے سال طبریا شہر میں ایک چرچ کو آگ لگانے کے واقعے میں ملوث یہودیوں کو گرفتار کیا گیا مگر ان کے خلاف بھی موثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

چرچ کو آگ لگانے کے جرم میں دو یہودی شرپسندوں کو صرف دو سال قید کی سزا سنائی گئی حالانکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے طبریا میں چرچ کو نذرآتش کرنے کے واقعے کو بدترین کارروائی قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کا یقین دلایا تھا۔ جب چرچ کی انتظامیہ کی جانب سے آتش زدگی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی درخواست دی گئی تو اسرائیلی انتظامیہ کی طرف سے یہ کہہ کر درخواست مسترد کردی کہ آتش زدگی کا واقعہ مذہبی منافرت کا نتیجہ ہے"دہشت گردی" کی کارروائی نہیں ہے۔ اس لیے اس کا ہرجانہ ادا نہیں کی جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں