اقوام متحدہ : شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ان تحقیقات میں شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والے عناصر کا تعیّن کیا جاسکے گا۔

سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرار داد کے تحت شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے ذمے داروں کی نشان دہی کی جاسکے گی تاکہ انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔امریکا شام میں گذشتہ مہینوں کے دوران کلورین گیس کے بڑھتے ہوئے حملوں کے پیش نظر اس کے ذمے داروں کے احتساب کے لیے سلامتی کونسل سے اقدام کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کی شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق الزامات کی تحقیقات کے آغاز میں روس کے اعتراض کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔روس کا یہ کہنا تھا کہ پڑوسی ملک عراق میں داعش پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کے الزام کی بھی تحقیقات کی جائے۔

لیکن جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس نے اپنا یہ اعتراض واپس لے لیا ہے جس کے بعد مذکورہ دونوں اداروں کے محققین کے لیے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملوں کی تحقیقات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ میں متعین روس کے سفیر ویٹالے چرکین نے سیکریٹری جنرل بین کے مون کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھیں اپنا اعتراض واپس لینے کی اطلاع دی ہے۔سیکریٹری جنرل کے پریس دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اس خط کے موصول ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔انھوں نے روسی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ بہت جلد تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کے لیے انتظامات کریں گے۔

بین کی مون نے بدھ کو روسی سفیر کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھیں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اقوام متحدہ تحقیقاتی مشن سے متعلق سمجھوتے پر دمشق حکومت سے مشاورت کرے گی۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ تحقیقات کا کب آغاز ہوگا لیکن انھوں نے شام کے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ مجوزہ مشن کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

یہ تحقیقاتی مشن شام میں کلورین یا دوسرے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرکے اس کے ذمے داروں کا تعین کرے گا اور ان حملوں میں کسی بھی طرح ملوث افراد کی نشان دہی کرے گا۔

واضح رہے کہ بعض مغربی ممالک شامی حکومت پر اپنے ہی شہریوں پر کلورین گیس کے حملوں کے الزامات عاید کرتے رہے ہیں۔تاہم روس کا کہنا ہے کہ کسی بھی فریق پر الزام عاید کرنے سے پہلے ٹھوس شواہد فراہم کیے جانے چاہئیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے فریقوں میں سے اسد حکومت کے تحت فوج کے سوا کسی گروپ کے پاس ہیلی کاپٹر نہیں ہیں اور ان ہیلی کاپٹروں ہی کو زہریلے کیمیائی مواد کو گرانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

شام اور ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے درمیان 2013ء میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے سمجھوتا طے پایا تھا لیکن اس میں کلورین کو کیمیائی ہتھیار قرار نہیں دیا گیا تھا کیونکہ اس کو صنعتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں