جوہری معاہدے کے دو خفیہ مسودوں کی موجودگی کا انکشاف

ایران کو عالمی طاقتوں کے ذریعے رسوا کیا گیا: رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

#ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] میں رواں برس جولائی میں تہران کے متنازع جوہری پروگرام پر ہونے والے سمجھوتے پر بحث جاری ہے۔ اس دوران بعض ارکان پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور مغرب کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے دو اعلانیہ مسودوں کے ساتھ ساتھ دو خفیہ مسودے بھی موجود ہیں لیکن حکومت اور مذاکرات کاروں نے انہیں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق "جوہری معاہدے" کے آئینی پہلوئوں پر غور وخوض کے لیے پارلیمنٹ کی 15 رکنی کمیٹی نے حال ہی میں پارلیمنٹ کے اجلاس میں گرما گرم تقاریر کے ساتھ کئی ایسے نکات بھی اٹھائے جن پر حکومت کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جاسکا ہے۔

ایران کے جوہری تنازع کے سابق مذاکرات کار اور رکن پارلیمنٹ سعید جلیلی نے اجلاس کے دوران کہا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے دوران ایران کو ذلیل اور رسوا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی چال بازوں نے ایران پر ایسی ایسی شرائط مسلط کردی ہیں جن پر عمل درآمد #تہران کے لیے گھاٹے کا سودا ہے۔

سعید جلیلی نے کہا کہ ایران اور مغرب کے درمیان طے پائے معاہدے میں واضح طور پر عدم توازن موجود ہے۔ صدر #حسن_روحانی کو بتانا چاہیے کہ معاہدے کے تحت ہمیں کیا ملا اور مغرب کو کیا دیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کچھ حقائق بھی بیان کیے اور کہا کہ ہم نے 20 ہزار سے زائد سینٹری فیوجز تیار کرلیے تھے۔ آراک میں بھاری پانی کے ری ایکٹر پر 86 فی صد کام مکمل ہوچکا تھا، فردو ری ایکٹر یورینیم افزودگی کے مرحلے میں تھا جب کہ تہران میں اٹامک میڈیکل ریسرچ ری ایکٹر سے پیداوار بھی شروع ہوچکی تھی۔ مذاکرات سے قبل ہم نے "ریڈیو آیسوٹوپ" تیار کرلیا تھا۔ اس کے علاوہ 418 کلوگرام یورینیم درجہ 20 اور 7000 کلو گرام کو 5 فی صد تک تیار کرلیا گیا تھا، لیکن حکومت نے مغرب سے مذاکرات کے دوران ان تمام پروجیکٹ سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے بنا بنایا کام بگاڑ دیا ہے۔

سابق مذاکرات کار نے مغرب اور تہران کے درمیان سمجھوتے کا ایک اورنقطہ اعتراض اٹھایا اور کہا کہ ایران کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ 20 فی صد سے زیادہ یورینیم افزودہ نہیں کرسکتا ہے۔ یورینیم کی افزودگی کی حد بیس فی صد مقرر کرکے ایران کے ساتھ کھلم کھلا زیادتی کی گئی ہے کیونکہ دنیا کا اور ایسا کوئی ملک نہیں جس پر اس طرح کی پابندیاں عاید کی گئی ہوں۔

#امریکا کی جانب سے تہران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے بارے میں سعد جلیلی نے کہا کہ امریکا کبھی بھی تہران پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرتا مگر ہماری حکومت امریکی دھمکیوں کے دبائو میں آگئی تھی۔ امریکا ایران سے جوہری معاہدہ کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہا تھا تاکہ تہران پر عاید اقتصادی پابندیوں کو بتدریج ختم کیا جاسکے۔

ایران کی مجلس شوریٰ میں جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے قائم کردہ کمیٹی میں شامل ایک دوسرے رکن #محمود_نبویان نے دعویٰ کیا ہے کہ مغرب اور ایران کے دورمیان سمجھوتے کے کل چار مسودے تیار کیے گئے ہیں۔ ان میں سے دو کو منظرعام پر لایا گیا جب کہ دو کو سامنے نہیں لایا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی"تسنیم" سے بات کرتے ہوئے مسٹر نبویان کا کہنا تھا کہ ہم نے جوہری معاہدے کے خفیہ مسودوں کے بارے میں ایرانی جوہری توانائی ایجنسی کے چیئرمین علی اکبر صالحی اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی سے بات کی تو انہوں نے اعتراف کیا کہ مغرب اور ایران کے درمیان معاہدے کے چار میں سے دو مسودے خفیہ رکھے گئے ہیں۔ یہ دونوں مسودے ابھی تک ایرانی پارلیمنٹ یا اس کی کسی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اعلانیہ مسودے میں ایران کو طویل المیعاد بنیادوں پر 3.6 فی صد یورینیم کی افزودگی کی اجازت کا ذکر ہے۔ جب کہ دوسرے اعلانیہ مسودے میں عالمی توانائی ایجنسی اورایران کےدرمیان طے پائے سمجھوتے پر عمل درآمد کا فریم ورک ہے جب کہ دو دیگر مسودوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں