مصر کی یمن میں بَری فوج کی تعیناتی کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

#مصر کے ایوان صدر نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ #قاہرہ نے #یمن میں #سعودی_عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن کے تحت اپنی بری فوج کے 800 اہلکار بھیجے ہیں۔

اخبار "الحیاۃ" نے قاہرہ ایوان صدر کےایک مصدقہ ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن میں مصر کی بَری فوج کے دستے تعینات کیے گئے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ البتہ فضائیہ اور نیوی کے دستے اس آپریشن میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔

درایں اثناء سعودی عرب اور #بحرین کے لیے مصر کے ملٹری اتاشی بریگیڈیئر جنرل محمد ابو بکر نے بتایا کہ کسی دوسرے ملک میں بَری فوج کی تعیناتی کے لیے آئین کے تحت پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں بعض اخبارات نے یہ خبر شائع کی تھی کہ مصرنے بَری فوج کے 800 اہلکار یمن میں تعینات کیے ہیں جو خلیجی ممالک کے یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف زمینی آپریشن میں حصہ لیں گے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصر کی جانب سے یمن میں زمینی آپریشن کے لیے ٹینک، فوجیوں کے لیے ٹرانسپورٹ گاڑیاں اور دیگر سامان بھی بھیجا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں