مقدونیا پولیس کا بھوکے، پیاسے شامی پناہ گزینوں پر وحشیانہ تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#شام میں جنگ کی قیامت خیز تباہی سے بھاگ کر یورپی ملکوں میں پناہ کے حصول کے لیے ٹھوکریں کھانے والے شامی پناہ گزینوں کی نت نئی المناک داستانیں سامنے آ رہی ہیں۔ سمندروں کی بے رحم موجوں سے بچ گئے تو پولیس اور یورپی ملکوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی پناہ گزینوں کی مشکلات سے بھرپور #یورپ کی طرف نقل مکانی کی کئی دل دہلا دینے والی ویڈیوز اور تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک تازہ فوٹیج میں #مقدونیا کی سرحد پر کھڑے بے یارو مدد گار، بھوکے پیاسے اور کئی ہفتوں کے سفر سے تھکے ہارے بچوں، خواتین اور مردوں پر پولیس کو وحشیانہ لاٹھی چارج کرتے دکھایا گیا ہے۔

گوکہ تمام یورپی ملکوں کا اپنے ہاں آنے والے پناہ گزینوں کے بارے میں موقف اور پالیسی یکساں نہیں۔ بعض ملکوں کی طرف سے پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی ہمدردی پر مبنی رویہ اپنایا جاتا ہے تاہم مقدونیا، ہنگری اور اٹلی کی سرحدوں پر پھنسے شامی پناہ گزینوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

مقدونیا کی سرحد پر پولیس کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والے مردو خواتین کی چیخ پکار بھی سنائی دے رہی ہے مگر اس کے باوجود "قصاب نما" پولیس اہلکار ان پر اندھا دھند لاٹھیاں برسائے جا رہے ہیں۔ اس ایک ویڈیو سے مقدونیا کی حکومت کی پناہ گزینوں کے بارے میں پالیسی اور پولیس کے وحشیانہ تشدد کی عکاسی ہوتی ہے۔ اگرچہ مقدونیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو روکے ہوئے ہیں مگر ان پر تشدد نہیں کیا گیا ہے۔

شام کے مقتل سے نکل کر یورپ کی طرف جانے والے خانما برباد شامیوں کے مصائب کی ویڈیوز اور تصاویر سے انٹرنیٹ بھرا پڑا ہے۔ مقدونیا پولیس کے ہاتھوں نہتے شامی شہریوں پر تشدد کی تازہ ویڈٰو بھی انٹرنیٹ پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے اور صارفین کی جانب سے مقدونیا پولیس کے اس وحشیانہ عمل کی ہر طرف مذمت کی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں