.

مسجد حرام میں کرین گرنے سے 107 افراد شہید، 230 زخمی

حادثہ تیز طوفان باد وباراں کے باعث پیش آیا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے حکام کا کہنا ہے کہ حرم مکی شریف میں جمعہ کے روز کرین کے ایک المناک حادثے کے نتیجے میں کم سے کم 107 افراد جاں بحق اور 230 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والے افراد میں 52 پاکستانی، 25 بنگلہ دیشی اور 10 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔ -

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہری دفاع کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ "ٹیوٹر" پر جاری بیان میں اس افسوسناک خبر کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ حادثہ خراب موسم اور تیز آندھی کے باعث اس وقت پیش آیا جب ہوا میں معلق کرین ٹوٹ کر صفا مروہ کے زیر تعمیر حصے میں آ گری۔حادثے کے وقت تیز ہوا 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی جو کرین کے حادثے کا موجب بنی۔

تادم تحریر ملنے والی اطلاعات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 107 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ 230 کے لگ بھگ لوگ زخمی ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

شہری دفاع کے ترجمان کرنل سعید بن سرحان نے "ٹیوٹر" بیان میں بتایا کہ زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر سعودی ہلال احمر، ریسکیو اور محکمہ صحت کی 15 ٹیمیں سرگرم ہیں۔

دوسری جانب مکہ معظمہ کے گورنر شہزادہ خالد بن الفیصل نے کرین حادثے پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک فوری طور پر ایک کمیٹی تشکیل کرتے ہوئے جلد از جلد رپورٹ طلب کی ہے۔

مکہ ریجن کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ سلطان الدوسری نے بتایا کہ گورنر شہزادہ خالد الفیصل حادثے کی لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین صورت حال سے با خبر ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کے علاج معالجے کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب سعودی ہلال احمر کے ترجمان خالد الحبشی نے العربیہ کے بردار ٹی وی چینل "الحدث" سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ حادثہ سعودی عرب کے معیاری وقت کے مطابق 17:19 پر نماز مغرب سے چند منٹ قبل پیش آیا۔ حادثے کے وقت حرم شریف کے ادنر اور باہر نمازیوں کا غیر معمولی رش تھا۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر 68 امدادی ٹیمیں پہنچ گئی تھیں جنہوں نے زخمیوں کو اور شہید ہونے والے شہریوں کی میتوں کو وہاں سے نکالنے میں مدد کی۔

سعودی عرب کے محکمہ صحت کے ترجمان عبدالوھاب شلبی کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے لیے طائف اور جدہ کے اسپتالوں کے عملے کوبھی مدد کے لیے بلایا گیا ہے۔ زخمیوں کو مکہ مکرمہ میں اجیاد اسپتال، شاہ عبدالعزیز میڈیکل کمپلیکس، شاہ فیصل اسپتال اور النور اسپتال منتقل کیا گیا ہے جب کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں المعیصم اسپتال لے جائی گئی ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر صحت انجینیر خالد الفالح نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ"ٹیوٹر" پرانے ایک بیان میں حرم میں پیش آنے والے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد مکہ مکرمہ، جدہ اور دوسرے شہروں کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔