.

آسٹریلوی لڑاکا طیاروں کا شام میں پہلا جنگی مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا کے لڑاکا طیاروں نے پہلی مرتبہ شام میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے زیر قبضہ علاقوں کی نگرانی اور سراغرسانی کے لیے پروازیں کی ہیں۔

آسٹریلیا کے محکمہ دفاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ''ائیر ٹاسک گروپ نے شام میں اپنا پہلا آپریشنل مشن مکمل کر لیا ہے اور وہ کسی حادثے کا شکار ہوئے بغیر مشرق وسطیٰ میں اپنے اڈے پر واپس پہنچ گیا ہے''۔بیان کے مطابق مشن کے دوران کوئی ہتھیار نہیں چلائے گئے ہیں۔

بیان کے مطابق اس مشن میں آسٹریلیا کی شاہی فضائیہ کے دو ایف اے 18 اے ہارنٹس ،ایک کے سی 30 اے فضا سے فضا میں ایندھن بھرنے والے طیارے اور ایک ابتدائی انتباہ کرنے والے ائیر بورن طیارے ای سیون اے کو بھیجا گیا تھا۔

آسٹریلوی فضائیہ کے ٹاسک گروپ کے کمانڈر ائیر کموڈور اسٹو بیلنگھم کا کہنا ہے کہ ہارنٹیس طیاروں کے ذریعے شام کے مشرقی علاقے میں دشمن کی سرگرمیوں کا سراغ لگایا گیا ہے اور اس کی داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کے مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز کو اطلاع دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہارنٹس کسی بھی مختصر نوٹس پر نگرانی اور ہتھیار پھینکنے کے لیے تیار تھے۔

مسٹر بیلنگھم کا کہنا تھا کہ ''داعش کا مشرقی شام کے ایک بڑے حصے پر قبضہ ہے۔وہ وہیں سے اپنے لیے جنگجوؤں کو بھرتی کررہی ہے اور تیل فروخت کرکے رقوم حاصل کررہی ہے۔شام کے مشرقی علاقے ہی سے اس کے جنگجو عراق میں حملے کررہے ہیں''۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا پہلے عراق میں امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے وہاں اس جنگجو گروپ کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔اب وہ شام میں داعش کے خلاف فوجی مشن میں شامل ہوگیا ہے۔آسٹریلوی وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہے کہ ''ہم داعش کو شام میں شکست دیے بغیر عراق میں شکست نہیں دے سکتے ہیں''۔