.

صدر اوباما کا روس کو شام میں فوجی مداخلت پر انتباہ

بشارالاسد کی حمایت سے تنازعے کے حل کے امکانات معدوم ہوجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے روس کی جانب سے شام میں فوجی مشیر اور جنگی سازوسامان بھیجنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حکمت عملی ناکامی سے دوچار ہوگی اور اس سے پہلے سے تعطل کا شکار امن کوششیں بالکل ختم ہوسکتی ہیں۔

وہ امریکا پر نائین الیون حملوں کی چودھویں برسی کے موقع پر فورٹ میڈ میں تقریب سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ''روس بشارالاسد کی حمایت دگنا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے لیکن میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے۔ہم روس پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپ ایک ایسی حکمت عملی کو جاری نہیں رکھ سکتے جو ناکامی سے دوچار ہونے والی ہے''۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ ہفتوں کے دوران بحری جہاز،بکتربند گاڑیاں اور نیول انفینٹری شام بھیجی ہے۔صدر اوباما کے بہ قول اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت ڈھیلی پڑرہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس کو اس وقت امریکا سے کہیں زیادہ داعش کا خطرہ درپیش ہے مگر روسی اب حقیقت سے کہیں زیادہ چوکنا نظر آنے کی کوشش کررہے ہیں''۔واضح رہے کہ روس کے مسلم اکثریتی علاقے شمالی قفقاز میں شورش پائی جاتی ہے اور وہاں کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہوکر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑرہی ہے۔

صدراوباما نے واضح کیا کہ روس کے اقدام سے امریکا کے شام میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے بنیادی مشن پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔البتہ اس سے تنازعے کے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔

تاہم ان کی شامی تنازعے کے حل کے لیے اس خواہش کے باوجود اقوام متحدہ اور شام میں اثرورسوخ کے حامل ممالک گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری اس بحران کو حل نہیں کرسکے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق شام میں جاری لڑائی کے نتیجے میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کا سب سے بڑا بحران پیدا ہوچکا ہے۔روزانہ ہزاروں شامی مہاجرین یورپی ممالک کا رخ کررہے ہیں جبکہ پڑوسی عرب ممالک اور ترکی میں لاکھوں مہاجرین خیمہ بستیوں میں رہ رہے ہیں۔