.

فرانسیسی قونصلیٹ پناہ گزینوں میں موت بانٹنے میں ملوث!

ویڈیو نے فرانسیسی قونصل خانے کی سرگرمیوں کا بھانڈہ پھوڑ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں موت کے منہ سے نکل کر زندگی کی تلاش میں سرگرداں لاکھوں باشندوں کو #یورپ اور عرب دنیا میں جن بے پناہ مصیبتوں کا سامنا ہے، ان کی تفصیلات تو آئے روز اب میڈیا کی زینت بن رہی ہیں۔ ایک ہفتہ قبل #ترکی کے ساحل پراوندھے منہ پڑے تین سالہ ایلان کردی کی میت کی تصویر نے ہر زندہ ضمیر انسان کو ہلا کر رکھ دیا۔ لاکھوں شامی پناہ گزینوں کو یورپی ملکوں تک لے جانے، انہیں مشکلات سے دوچار کرنے والے اسمگلروں کے ساتھ ساتھ اب ایک نیا اور لرزہ خیز انکشاف ہوا ہے کہ ترکی میں قائم #فرانس کا ایک قونصلیٹ بھی پناہ گزینوں میں موت باننٹے میں پیش پیش ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ ترکی کی شمال مغربی ساحلی ریاست 'بود بورم' میں قائم فرانس کا ایک قونصلیٹ یورپی ملکوں کی طرف سفر کے خواہاں پناہ گزینوں کو غیر محفوظ کشتیاں فروخت کرتا رہا ہے۔ ممکنہ طور پر تین سالہ ایلان کردی کو جس کشتی میں سوار کیا گیا اور وہ آخر کار حادثے کا شکار ہوئی تو وہ بھی اسی فرانسیسی سفارت خانے کی 'دَین' تھی۔

فرانسیسی نیوز چینل "France 2" کے ایک نامی نگار نے حال ہی میں اپنی ایک ریکارڈ رپورٹ میں موت کے اس خوفناک کھیل کا پتا چلایا اور اپنے ہی ملک کے ایک قونصل خانے کو پناہ گزینوں میں"موت کی کشیتاں" بانٹنے کا قصور وار ثابت کیا ہے۔

ترکی میں قائم فرانسیسی قونصل خانے سے وابستہ اعزازی سفارت کار ایک بیان اس کی اپنی آواز میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ بیان اس سے قونصل خانے کے کشتیوں کے ایک گودام میں لیا گیا۔ سفارت کار کا کہنا ہے کہ "اگر ہم ان لوگوں کو کشتیاں فروخت نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا شخص انہیں کشیتاں مہیا کردے گا"۔

فرانسیسی قونصل خانے کے عہدیدار کا یہ بیان ایک خفیہ کیمرے کی آنکھ میں بھی محفوظ ہوگیا۔ فرانسیسی ٹی وی کے نامہ نگار نے جب اسے پوچھا کہ "آپ ایک ملک کے سفارت کار ہیں اور قونصل خانے کا کام پناہ گزینوں کی غیرقانونی اسمگلنگ میں معاونت کیسے ہوسکتا ہے؟" تو اس نے کہا کہ "ہاں" ہم یہ کام کررہے ہیں اس میں ہم تنہا نہیں ہیں۔ یہی کام اس شہر کا میئر اور بندرگاہ کے عہدیدار بھی کررہے ہیں۔

کسی ملک کے قونصلیٹ کی جانب سے اس نوعیت کا غیرقانونی ہتھکنڈہ ناقابل یقین نہیں کیونکہ دوسرے ملکوں میں قائم سفارت خانے اورقونصلیٹ اس طرح کی مشکوک سرگرمیوں میں اکثر پائے جاتے رہے ہیں۔ تاہم فرانس جیسے ملک کے قونصل خانے کی جانب سے پناہ گزینوں کو غیر قانونی طورپر کشتیاں فروخت کرنا حیران کن ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ملک کا قونصل خانہ شامی پناہ گزینوں کو غیرقانونی طور کشتیاں فروخت کرتا رہا ہے تو اس کی عالمی سطح پر تحقیقات کی جانی چاہئیں، کیونکہ سمندر میں غیرمحفوظ کشتیوں پر سفر کرتے ہوئے پچھلے کچھ عرصے کے دوران تین ہزار سے زائد پناہ گزین لقمہ اجل بن چکے ہیں۔