.

مکہ مکرمہ:آندھی نے راہ گیر زمین پر پٹخ دیے!

درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے مقدس شہر #مکہ مکرمہ میں جمعہ کی شام آنے والی تیز آندھی اور موسلا دھار بارش نہ صرف #مسجد_حرام میں کرین کے ایک المناک حادثے کا سبب بنی بلکہ مختلف کیمروں میں بنی ویڈیوز سے پتا چلا ہے کہ تیز ہوا کے باعث سڑکوں پر چلنے والے لوگ بھی توازن برقرار نہیں رکھ سکے اور بار بار زمین پر گرتے رہے۔ طوفانی بارش اور آندھی نے سائن بورڈز گرا دیے اور درخت اکھاڑ پھینکے۔

#العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جُمعہ کی شام مکرمہ میں خراب موسم کے باعث مسجد حرام میں پیش آنے والے کرین حادثے کے نتیجے میں 107 نمازی شہید اور 238 زخمی ہوگئے تھے۔ محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت مسجد حرام اور اس کے قرب و جوار میں ہوا 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی جس نے نہ صرف کرین کو اکھاڑ پھینکا بلکہ راہ گیروں کو بھی زمین پر پٹختی رہی۔

حسب معمول سوشل میڈیا پر بھی سعودی عرب میں خراب موسم کی کئی ویڈیو گردش کررہی ہیں۔ تیز آندھی اور بارش کی ایک تازہ ویڈٰیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ راہ گیر چلتے ہوئے تیز آندھی کے باعث اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں اور بار بار زمین پر گرپڑتے ہیں۔

محمکہ موسمیات کا کہنا ہے موسلا دھار بارش نے درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی ہے۔ آندھی اور بارش سے قبل مکہ مکرمہ کا درجہ حراست 40 درجے سینٹی گریڈ تھا جب کہ آندھی کے بعد رجہ حرارت کم ہو کر 25 درجے سینٹی گریڈ پرآگیا۔

یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پوری دنیا سے عازمین بیت اللہ کے دیدار کا قصد لیے سرزمین حجاز کی طرف رواں دواں ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے ویسے تو حجاج کرام کی حفاظت کے لیے غیرمعمولی اقدامات کیے ہیں اور کرین حادثے کے بعد مزید محتاط بھی ہوگئی ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے عالم اسلام کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ کرین حادثے کے باوجود فریضہ حج متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔