.

یمنی حکومت مجوزہ امن مذاکرات سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سعودی عرب میں جلا وطن حکومت نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں حوثی باغیوں کے ساتھ مجوزہ امن مذاکرات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔

یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی سبا کی ویب سائٹ پر اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''حکومت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ جب تک باغی ملیشیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد نمبر 2216 کو تسلیم نہیں کرتی اور اس پر غیر مشروط طور پر عمل درآمد نہیں کرتی ہے ،اس وقت تک وہ کسی اجلاس کا حصہ نہیں بنے گی''۔

سلامتی کونسل نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں یمن کے تمام فریقوں پر زوردیا تھا کہ وہ پیشگی شرائط عاید کرنے اور یک طرفہ اقدامات سے گریز کریں۔قبل ازیں یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جون میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں امن مذاکرات ہوئے تھے لیکن ان میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت حوثی باغیوں سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق گذشتہ سال قبضے میں لیے گئے تمام علاقوں اور سرکاری عمارتوں کو خالی کردیں اور اپنے آبائی علاقوں کی جانب لوٹ جائیں۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ''یمن کی جلاوطن حکومت اور حوثی باغیوں نے مذاکرات میں شرکت سے اتفاق کیا ہے اور یہ مذاکرات آیندہ ہفتے خطے کے کسی شہر میں ہوں گے''۔مگر اب یمنی حکومت کے انکار کے بعد ان مذاکرات کا انعقاد مشکل نظر آرہا ہے۔

صدر منصورہادی کی حکومت نے اسماعیل ولد شیخ احمد پر زوردیا تھا کہ وہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں سے یمنی دارالحکومت صنعا اور دوسرے علاقوں سے انخلاء کا پختہ وعدہ لیں۔حوثی شیعہ باغیوں نے ستمبر 2014ء سے صنعا اور شمالی شہروں پر قبضہ کررکھا ہے۔

حوثی باغیوں نے جنوبی شہروں کی جانب بھی یلغار کی تھی جس کے بعد مارچ میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں پر فضائی حملے شروع کردیے تھے۔صدر منصور ہادی کی وفادار فورسز نے سعودی فضائیہ کی مدد سے حوثیوں کو حالیہ ہفتوں کے دوران عدن اور دوسرے جنوبی شہروں سے پسپا کردیا ہے۔ملک میں گذشتہ پانچ ماہ سے جاری لڑائی اور فضائی حملوں میں ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔