الجزائر: صدر نے طاقتور انٹیلی جنس چیف برطرف کردیا

ایوان صدر نے خود کو با اختیار ثابت کردیا: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

#افریقا کے اہم عرب ملک #الجزائر کے صدر #عبدالعزیز_بوتفلیقہ نے اپنے 20 سالہ دور اقتدار میں پہلی بار ریاست کے اہم ترین ادارے انٹیلی جنس" کے چیف جنرل توفیق کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ الجزائر کی سیاست میں یہ اقدام سنہ 2015 ء کا اہم ترین فیصلہ تو ہے ہی مگر یہ سنہ 1999ء کے بعد کا بھی نمایاں واقعہ شمار ہوتا ہےکیونکہ پچھلے دو عشروں سے ملک میں کوئی ایسی نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے نامہ نگاروں نے الجزائر میں انٹیلی جنس چیف جنرل توفیق کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے اقدام اور اس کے ملکی سیاست پر اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ نامہ نگاروں کی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر بوتفلیقہ نے انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹا کر یہ ثابت کیا ہے کہ اس وقت سب سے طاقت ور اتھارٹی فوج یا انٹیلی جنس نہیں بلکہ صدر خود ہیں اور انہوں نے اپنے آئینی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔

سنہ 1999ء کے بعد کئی بار بعض حلقوں کی جانب سے یہ شکایت بھی کی گئی کہ صدر عبدالعزیز مسلح افواج اور انٹیلی جنس میں تبدیلیوں سے خائف رہتے ہیں، لیکن اب دو عشروں بعد انہوں نے اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

سبکدوش کیے گئے جنرل توفیق کو الجزائرمیں "صدر ساز" بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے سربراہان مملکت کی تقرری میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا، لیکن اب کی بار ایوان صدر نے اپنی طاقت دکھاتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور آزادی کے بعد ایوان صدر کو حاصل اختیارات واپس دلا دیے ہیں۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ الجزائرمیں تین ادارے ایوان صدر، مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف اور انٹیلی جنس بہت طاقت ور سمجھے جاتے ہیں۔ بعض اوقات ان اداروں کے درمیان بھی اختیارات کی رسا کشی جاری رہتی ہے۔ انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے صدر بول تفلیقہ کو فوج کے سپہ سالار جنرل قائد صالح کی بھی معاونت حاصل رہی ہے۔

مبصرین کے خیال میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹانا ملک میں سیاسی اصلاحات کے سنہ 2012ء میں اعلان پر عمل درآمد کی طرف اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔ سنہ 2012ء میں صدر بوتفلیقہ ایک تقریب میں یہ کہہ چکے ہیں "میری نسل کی طبعی عمراب پوری ہوچکی ہے۔"

تین سال پیشتر جب انہوں نے یہ بیان جاری کیا تو اس خیال گذرا کہ صدر عزیز بوتفلیقہ 2014ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ مگر انہوں نے سنہ 2014ء کے صدارتی انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ چوتھی مدت کے لیے سنہ 2019ء ملک کے نئے صدر بھی منتخب ہوگئے۔

اس لیے "میری نسل کی عمر ختم ہوچکی" سے ان کی مراد بعض طاقت ور ریاستی عناصر کو کنارے پے لگانے کی پالیسی اپنانا اور ملک میں نئی سیاسی اصلاحات متعارف کرانا تھیں جس کا پہلا قدم انہوں نے انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اٹھایا ہے۔

الجزائر کی "امن سماج موومنٹ" کےچیئرمین عبدالرزاق مقری نے "العربیہ" ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے طاقت ور اداروں کے مابین پچھلے کئی سال سے اختیارات کی رسا کشی چلی آ رہی ہے، لیکن یہ سب کچھ پس چلمن ہی ہوتا رہا ہے۔ پہلی بار اس کا اظہار صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی صورت میں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس چیف کی جبری ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ملک سیاسی اصلاحات کی جانب گامزن ہے۔ المقری کا کہنا تھا کہ ماضی میں ہونے والی رسا کشی کو عوام الناس کو کیا پتا چلتا۔ اس کے بارے میں سیاسی جماعتوں کو بھی کم ہی علم ہو پاتا تھا۔ اب چونکہ ایوان صدر نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اختیارات کا مرکز خود کو ثابت کیا ہے۔ اس لیے اب تمام اداروں میں اختیارات کا توازن قائم کیا جاسکے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریاستی ادارے اختیارات کی کھینچا تانی میں مصروف عمل رہے تو اس کا نتیجہ معاشرے کی ٹوٹ پھوٹ کی شکل میں بھی رونما ہوسکتا ہے۔

انٹیلی جنس چیف کی برطرفی کے بعد فوج میں سب سے بااختیار آرمی چیف اور ان کا فوجی ادارہ ہے۔ مسلح افواج کے موجودہ سربراہ جنرل احمد قائد صالح فوج کے ساتھ ساتھ صدر کے بھی وفادار ہیں۔ آرمی چیف مسلح افواج کے سربراہ ہونے کے ساتھ ساتھ نائب وزیر دفاع بھی ہیں، کیونکہ انٹیلی جنس چیف کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے اختیارات بھی آرمی چیف کو دے دیے گئے ہیں۔ تاہم وزیر دفاع کے تمام تر اختیارات صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ نے اپنے پاس رکھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں