ایرانی ریسلر نے 'انتقاما' امریکا میں پناہ لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#ایران کے ایک معروف ریسلر نے اپنے ملک کی ریسلنگ فیڈریشن کے ایک فیصلے کے رد عمل میں انتقاماً #امریکا میں پناہ کی درخواست دی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی ریسلنگ فیڈریشن کی ٹیم امریکی ریاست لاس ویگاس میں منعقدہ "رومن ریسلنگ چیمپیئن شپ" میں شرکت کے لیے امریکا پہنچی۔ ریسلرز کی ٹیم میں معروف پہلوان محسن حاجی پور بھی شامل تھے مگر امریکا آنے کے بعد ایرانی فیڈریشن نے حاجی بور کو میچ میں شرکت کرنے سے بہ وجوہ انکار کردیا، جس پر اس نے انتقاماً اپنے ملک واپس جانے سے انکار کردیا اور امریکا ہی میں پناہ کی درخواست کی ہے۔

ایرانی #پاسدران_انقلاب کے مقرب نیوز ویب پورٹل "تابناک" نےاپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ محسن حاجی پور نے وطن واپس لوٹنے سے انکار کردیا ہے۔ ریسلروں کی باقی ٹیم واپس آگئی ہے مگر محسن حاجی پور واپس نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے ریسلنگ فیڈریشن کے طرزعمل کی شکایت کی ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں میں اس کا پہلا نمبر آنے کے باوجود اسے امریکا میں مقابلے میں شامل نہیں کیا گیا۔ ریسلنگ فیڈریشن کی جانب سے اس حوالے سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "مہر" کے مطابق امریکی ریاست لاس ویگاس میں ریسلنگ کے مقابلے میں ایرانی ٹیم چوتھے نمبر پر رہی۔ تاہم حیران کن امر یہ ہے کہ ایرانی ٹیم نے اپنے صف اول کے کھلاڑی محسن حاجی پور کو کھیلنے سے روک دیا تھا اور اس کی وجوہات بھی بیان نہیں کی گئی ہیں۔

"مہر" نیوز ایجنسی نے بھی ایرانی ریسلر کی امریکا میں پناہ کی درخواست کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جب معاملہ زیادہ بگڑ گیا تو انہوں ںے امریکا ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی باشندوں کے دوسرے ممالک میں پناہ لینے کے واقعات نئے نہیں۔ سنہ 1979ء میں برپا ہونے والے ایرانی انقلاب کے بعد بڑی تعداد میں لوگ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔ سنہ 2009ء میں ایران میں شروع ہونے والی اصلاحی تحریک کے بعد بھی دوسرے ملکوں میں پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ دوسرے ملکوں میں پناہ لینے والوں میں سیاسی، سماجی کارکن اور مذہبی شخصیات بھی شامل ہیں۔

ان کے علاوہ ایران کا ایک دوسرا ریسلر عباس کلی کرمستانی جرمنی میں پناہ حاصل کرچکا ہے جب کہ اس سے پیشتر ایرانی جوڈو کے کھلاڑی وحید سرلک نے بھی جرمنی میں پناہ حاصل کرلی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں