حرم مکی میں حادثے کا نشانہ بننے والے شہید ہیں: جامعہ الازھر

'شہداء روز قیامت تلبیہ پڑھتے اٹھیں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ #جامعہ_الازھر نے #مسجد_حرام میں گذشتہ جمعہ کی شام طوفانی بارش اورآندھی کے نتیجے میں ایک کرین کے حادثے میں جاںوالے نمازیوں اور حجاج کرام کو شہداء قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شہید ہونے والے تمام مسلمان روز قیامت تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھیں گے۔

جامعہ الازھر کے سیکرٹری ڈاکٹر عباس شومان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حرم مکی میں کرین کے حادثے میں مارے جانے والے تمام افراد نے شہادت کا مقام پایا ہے۔ ہم اللہ رب ذول الجلال سے تمام شہداء کے لیے رحمت، جنت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور یہ تمنا کرتے ہیں ان کے پاک خون روز قیامت ان کے لیے شفاعت کا ذریعہ بنائے جائیں گے۔

ڈاکٹر شومان نے کہا کہ جامعہ الازھر اور اس کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے حرم مکی میں پیش آئے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ہم سب نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی قوم اور پوری مسلم امہ کے ساتھ ہمدردی اور غم گساری کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

مصر کے ممتاز عالم دین اور مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے بھی حرم مکی میں کرین کے حادثے میں فوت ہونے والوں کو "شہید" قرار دیا۔ انہوں نے بھی شہداء حرم مکی کے لیے مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔

جامعہ الازھرسے وابستہ تقابلی فقہ کے استاد ڈاکٹر احمد کریمہ کا کہنا ہے کہ جو مسلمان فرض یا نفل حج کی نیت سے گھر سے نکلے تو وہ گویا اللہ کی راہ میں ہے۔ اگر وہ فوت ہوجائے تو شہید کہلائے گا اور روز قیامت "لبیک الھم لبیک" کہتا اٹھے گا۔

انہوں نے کہا کہ دور نبوت اور صحابہ کرام کے ادوار میں بھی حجاج کے ساتھ ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص حج کی نیت سے گھر سے نکلا مگر اپنی اونٹی سےگرکرفوت ہوگیا۔ آپ نے اس کی تجہیزو تکفین اور غسل دینے کی ہدایت کی مگر ساتھ ہی کہا کہ اس کے سرکے بال نہ ڈھانپے جائیں اور نہ ہی اسے خوشبو لگائی جائے اور فرمایا کہ یہ شخص روز قیامت تلبیہ پڑھتے دوبارہ اٹھایا جائےگا۔ پھر آپ نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔

"ومن يخرج من بيته مهاجرا إلى الله ورسوله ثم يدركه الموت فقد وقع أجره على الله وكان الله غفورا رحيما"

"اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ کے راستے میں ھجرت کرتا ہے اور اسے موت آجاتی ہے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور اللہ بہت بخشنے اور رحم کرنے والا ہے"۔

چونکہ فریضہ حج کی ادائی کے لیے نکلنا بھی اللہ کی راہ میں نکلنا ہے۔ اس لیے جو شخص اس فریضے کی ادائی کے دوران فوت ہوجاتا ہے تو اس کا اجر بھی اللہ کے ہاں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں