روس شام میں ایک بڑا فوجی اڈا بنا رہا ہے:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے کہا ہے کہ روس شام میں اپنے استعمال کے لیے ایک بڑا ہوائی اڈا بنا رہا ہے اور وہاں فوجی آلات اور فوجیوں کو بھیج رہا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان کپتان جیف ڈیوس نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نے اللاذقیہ کے جنوب میں لوگوں اور اشیاء کی نقل وحرکت دیکھی ہے۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ وہاں ایک فضائی اڈے کو قابل استعمال بنانے کے لیے کام کررہے ہیں''۔

امریکی حکام انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعوے کررہے ہیں کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی اور جنگی سازوسامان بھیج رہا ہے اور ان کے آبائی شہر کے نواح میں ایک فوجی اڈا کو زیراستعمال لانے کے لیے اس کی تزئین ومرمت کررہا ہے۔

دو امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ روس نے شام میں ایک فضائی اڈے پر نصف درجن ٹینک کھڑے کر دیے ہیں لیکن جنگ زدہ ملک میں بھاری فوجی سامان بھیجنے سے متعلق روس کےارادے واضح نہیں ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''روس کے سات ٹی 90 ٹینک اللاذقیہ کے نزدیک ایک ائیرفیلڈ میں دیکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ اس نے وہاں تعینات روسی اہلکاروں کے تحفظ کے نقطہ نظر سے توپ خانے کو بھی لگا دیا ہے''۔

اس سے پہلے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے یہ اطلاع دی تھی کہ روس نے اپنی نیول انفینٹری کے قریباً دو سو اہلکاروں کو اس ائیر فیلڈ میں تعینات کیا ہے اور وہ گذشتہ ایک ہفتے سے روزانہ دو مال بردار پروازیں بھی اس فضائی اڈے پر اتار رہا ہے۔

واضح رہے کہ روس گذشتہ ساڑھے چار سال سے شامی صدر بشارالاسد کی ہر طرح سے مدد وحمایت کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی حالیہ دنوں میں جنگ زدہ ملک میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے پر امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے تنقید کی ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ماضی میں طے کیے گئے معاہدوں کے تحت شامی فوج کے لیے امداد جاری رکھے گا۔

روس اور امریکا دونوں ہی کا کہنا ہے کہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش ان کا مشترکہ دشمن ہے لیکن بشارالاسد کے معاملے میں دونوں ممالک کا مؤقف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔روس اسد حکومت کا سب سے بڑا پشتی بان ہے اور وہ ماضی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامی صدر کے خلاف پیش کردہ تین قراردادوں کو بھی ویٹو کرچکا ہے جبکہ امریکا کا موقف ہے کہ بشارالاسد کی شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کی وجہ سے ملک میں صورت حال بد سے ابتر ہوئی ہے۔

مریکا اور بعض یورپی ممالک نے روس کے مال بردار طیاروں کی شام کے لیے پروازوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔روس قبل ازیں یہ کہہ چکا ہے کہ شام کے لیے اس کی پروازوں کے ذریعے صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان بھیجا جارہا ہے۔امریکا نے حالیہ دنوں کے دوران یونان اور بلغاریہ پربھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ شام جانے والے روسی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔

شام میں جاری خانہ جنگی میں دولاکھ پچاس ہزار سے افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور خانہ جنگی سے قبل ملک کی دو کروڑ تیس لاکھ آبادی میں نصف بیرون ملک نقل مکانی کرچکی ہے یا پھر لاکھوں اپنے ہی دیس میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں