روس نے اللاذقیہ میں فوجی اڈے کے 'رن وے' کی مرمت شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#روس نے #شام میں صدر #بشار_الاسد سے وفاداری نبھانے کے لیے #اللاذقیہ گورنری میں فوجی اڈے کے 'رن وے' کی تیاری کا کام شروع کردیا ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے "آبزرویٹری" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اللاذقیہ فوجی اڈے کی تعمیر ومرمت اور اس کے 'رن وے' کی تیاری کے دوران روس کے فوجی مشیران اور تعمیراتی ماہرین کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

"آبزروٹیری " برائے انسانی حقوق کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کی شام میں فوجی مداخلت پر اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہوچکا ہے۔ روس نے صدر بشار الاسد کے دفاع کے لیے اپنی فوج اور جنگی سازو سامان کی فراہمی کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی مسلسل گردش کرتی رہی ہیں کہ شام میں صدر بشار الاسد کی جانب سے روس کو اپنی فوج کے لیے اللاذقیہ شہر میں ایک بڑا اڈا تیار کرنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔

اسی حوالے سے آبزرویٹری نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ روسی فوج کی نگرانی میں اللاذقیہ میں حمیمیم ایئر پورٹ کا رن وے دوبارہ بنانا شروع کردیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رن وے کی تیاری کا تمام کام روسی خود کررہے ہیں۔ رن وے پر شام کے کسی فوجی اور عام شہری کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران روس سے بھاری فوجی سازو سامان سے لدے روسی جہاز، فوجیوں، جنگی ماہرین اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے ہمراہ شام پہنچ پہنچتے رہے ہیں۔

آبزویٹری کے ڈائرکٹر رامی عبدالرحمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بتایا کہ روسی حکام نے #الحمیدیہ ہوائی اڈے کی توسیع کا کام شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوائی اڈہ کئی سال سے ویران تھا اور رن وے پر بھی گھاس اگ چکی تھی جسے اب صاف اور دوبارہ مرمت کیا جا رہا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ شام میں اس کی فوج محاذ جنگ میں شامل نہیں تاہم #ماسکو روسی فوج کو لاجسٹک اسپورٹ مہیا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ طرطوس بندرگاہ میں بھی شامی فوجیوں کو روسی فوج کی جانب سے تربیت اور مشاورت فراہم کی جاتی رہی ہے۔

پچھلے ہفتے شامی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ روس سے دو مال بردار طیارے امدادی سامان لے کر اللاذقیہ میں باسل الاسد ہوائی اڈے پہنچے ہیں۔ دوسری جانب روس کا کہنا تھا کہ شام میں اس کا کوئی فوجی محاذ جنگ پر موجود نہیں ہے۔ ماسکو نے شام میں روسی فوجیوں کی موجودگی کا امریکی الزام بھی مسترد کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں