یورپی یونین مہاجرین کے کوٹے پر اتفاق رائے میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے درمیان یونان ،اٹلی اور ہنگری میں پناہ گزین ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کو رکن ممالک کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے کسی کوٹے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

لکسمبرگ کے وزیرداخلہ ژاں ایسلبارن نے برسلز میں ہنگامی اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''اس معاملے پر کوئی اتفاق رائے نہیں پایا جاتا ہے اور فی الوقت تمام ممالک کا کوئی مشترکہ موقف سامنے نہیں آیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت وزراء کی بڑی اکثریت اصولی طور پر مہاجرین کی مزید تقسیم کے حق میں ہے اور اس ایشو پر اب اکتوبر میں دوبارہ تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یورپی یونین کے مائیگریشن کمیشنر دیمتریس اواراموپولس نے اس موقع پر کہا کہ ایک لاکھ بیس ہزار مہاجرین کے بارے میں ہماری تجویز پر ہماری منشا کے مطابق کوئی سمجھوتا طے نہیں پاسکا ہے۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر نے یونان سے اٹلی اور ہنگری تک سرحدی علاقوں میں مقیم ایک لاکھ سے زیادہ مہاجرین کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا اور تنظیم کے وزرائے داخلہ ان کی اسی تجویز پر غور کررہے ہیں۔تاہم مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے ممالک نے اس تجویز کی شدید مخالفت کی ہے۔

جمہوریہ سلواک کے وزیرداخلہ رابرٹ کالیناک کا کہنا ہے کہ ان کے ملک ،جمہوریہ چیک اور دوسرے ممالک نے اس منصوبے کی حمایت سے انکار کردیا ہے اور انھوں نے تنظیم کا سربراہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیک نیوز ایجنسی سی ٹی کے کی رپورٹ کے مطابق ''بہت سے ممالک نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا ہے۔یہ صرف ہم یا جمہوریہ چیک ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک بھی اس کے حامی نہیں ہیں''۔

یورپی یونین کے نائب صدر فرانس ٹمر مانز کا کہنا ہے کہ رکن ممالک مہاجرین کی جس تعداد کو قبول کرنے کا کہہ رہے ہیں،وہ بہت تھوڑی ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے بعد مہاجرین کے لیے مسائل میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ برطانیہ ،جرمنی اور فرانس نے گذشتہ ہفتے اپنے ہاں پچھہتر ہزار شامی مہاجرین اوردوسرے تارکین وطن کو پناہ دینے کا اعلان کیا تھا۔یہ تارکین وطن حالیہ دنوں میں جنگ زدہ شام اور بعض افریقی ممالک سے زمینی اور بحری راستے کے ذریعے یونان،اٹلی ،آسٹریا اور ہنگری وغیرہ پہنچے ہیں۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ آیندہ پانچ سال کے دوران جنگ زدہ شام کے پڑوسی ممالک میں کیمپوں میں مقیم بیس ہزار مہاجرین کو پناہ دے گا۔یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈ جنکر کے تجویز کردہ منصوبے کے تحت جرمنی 31443 اور فرانس 24031 مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دے گا لیکن تنظیم کے رکن دوسرے ممالک کی جانب سے ابھی ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں