بشارالاسد کا داعش مخالف جنگ میں کوئی کردار نہیں:امریکا

شامی صدر تنازعے کے سیاسی حل کے لیے اقتدار چھوڑ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا نے روس کو خبردار کیا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کا دولتِ اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے خلاف جنگ میں کوئی کردار نہیں ہے اور انھیں تنازعے کے سیاسی تصفیے کے لیے اقتدار سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ٹیلی فون پر شامی تنازعے پر گفتگو کی ہے اور ان پر شام سے متعلق امریکا کا مؤقف واضح کیا ہے۔حال ہی میں روسی صدر ولادی میر پوتین نے بشارالاسد کی فوجی حمایت جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے جس کے بعد امریکا کو بھی روس پر شام کے بارے میں اپنا موقف واضح کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

جان کیری کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق:''سیکریٹری کیری نے اپنے روسی ہم منصب پر واضح کیا ہے کہ صدر بشارالاسد کی حمایت جاری رکھنے سے تنازعہ مزید شدت اختیار کرے گا اور اس سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے لیے ہمارے مشترکہ مقصد کو نقصان پہنچے گا''۔

انھوں نے امریکا کی جانب سے ساٹھ سے زیادہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ بشارالاسد اس اتحاد کے کبھی قابل اعتبار رکن نہیں ہوسکتے۔انھوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ امریکا داعش مخالف کوششوں میں روس کے تعمیری کردار کو خوش آمدید کہے گا۔

''سیکریٹری نے اس بات پر بھی زوردیا ہے کہ شام میں جاری تمام تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں ہےاور اس کو بشارالاسد کے بغیر صرف سیاسی طریقے سے ہی طے کیا جاسکتا ہے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

امریکا کو اس بات کی توقع رہی ہے کہ وہ روس کو بشارالاسد کی حمایت سے دستبردار کرانے میں کامیاب ہوجائے گا اور روس شامی صدر کو بھی اس بات پر آمادہ کرلے گا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں اور ایک عبوری حکومت قائم ہونے دیں جو شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کرے۔

امریکا اور اس کے اتحادی ممالک شام اور عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر گذشتہ ایک سال سے بمباری کررہے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ شام میں داعش اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے کے لیے اعتدال پسند باغی جنگجو گروپوں کی بھی حمایت کررہے ہیں۔اس کا یہ اصرار ہے کہ شامی حکومت تو بہ ذات خود ایک مسئلہ ہے اور وہ تنازعے کا حل تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔

جبکہ روس کا موقف ہے کہ اسدی فوج داعش سمیت انتہا پسند گروپوں کے خلاف اہم کردار ادا کرسکتی ہے اور اس نے اس کے لیے ہتھیار اور فوجی سازوسامان مہیا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔روس کے فوجی مشیر اسدی فوج کو تربیت بھی دے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں