بشارکو بچانے خطرناک غوطہ خور روسی ٹینک کی شام آمد

شام کو بھاری ہتھیاروں کی فراہمی کی روسی سازش بے نقاب ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شام کے صدر بشار الاسد کے دیرینہ حلیف روس کی جانب سے دمشق رجیم کو بچانے کے لیے فوج اور جنگی ساز وسامان شام کو مہیا کرنے کی خبروں کے بعد ذرائع ابلاغ اس کھوج میں لگے ہیں کہ زوال کا شکار بشار الاسد کو بچانے کے لیے روس نے کس نوعیت کا اسلحہ فراہم کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کی تحقیق سے مترشح ہوا ہے کہ روس نے شام کو "ٹی 90" نامی ایک انتہائی خطرناک غوطہ خور ٹینک بھی فراہم کیا ہے۔ پچھلے ہفتے "ٹی 90" طرز کے سات ٹینک شام پہنچائے گئے ہیں۔ دیگر فوجی ساز وسامان اور 200 میرینز اس کے علاوہ ہیں۔

امریکی اخبار"نیویارک ٹائمز" نے بھی روس کی جانب سے صدر بشارالاسد کو فراہم کیے گئے اس خطرناک ٹیم کے بارے میں ایک رپورٹ میں تفصیلات شائع کی ہیں۔ اس ٹینک کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ گہرے پانی میں بھی کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی اخبار نے سیٹیلائیٹ سے حاصل ہونے والی فوٹیج اور تصاویر بھی اپنی ویب سائٹ پرپوسٹ کی ہیں جس سے "ٹی 90" کی طاقت کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

روسی ساختہ "ٹی 90" کو جدید ترین اور نہایت خطرناک ٹینکوں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا مقابلہ امریکی ٹینک" M1 Abrams" کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کی لمبائی 9.53 اور چوڑائی 3.78 میٹر جب کہ وزن 47 ٹن ہے اور اس میں تین فوجی سوار ہو سکتے ہیں۔ اس کے تین ڈیزل انجن ہیں۔ پہلا انجن V-84MS کہلاتا ہے جس کی طاقت 850 ہارس پاور کے برابر ہے۔

دوسرا ڈیزل انجن V-84KD turbo- supercharged کہلاتا ہے جس کی طاقت 1000 ہارس پارو ہے اور تیسرا ڈیزل انجن V-85 کے نام سے مشہور ہے ۔ اس کی طاقت بھی 1000 ہارس پاور ہے۔ یہ تمام معلومات فوجی ٹیکنالوجی سے متعلق معلومات جمع کرنے والی امریکی ویب سائٹ "Army-technology پر بھی موجود ہیں۔ ٹینک میں نصب آئل ٹینکی میں بہ وقت 1600 لیٹر ڈیزل ڈالا جاسکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ ٹینک 1992ء میں روسی فوج کے اسلحے کاحصہ بنا تھا۔

پکی سڑکوں پر یہ ٹینک 65 کلو میٹر جب کہ کچے راستوں پر 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتا ہے۔ اس کا اہم ترین ہتھیا A46M2 نامی 125 ملی میٹر دھانے والی توپ ہے جو ایک منٹ میں چھ سے آٹھ گولے داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ توپ کے علاوہ دو مشین گنیں جن کے دھانے 7.62 ملی میٹر بتائے جاتے ہیں 2000 اور 300 گولیاں داغنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید ترین ٹینکوں کو کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری حملوں سے بچائو کے لیے NBC نامی ایک جدید حفاظتی آلے سے بھی لیس گیا گیا ہے۔

امریکی حکام کی جانب سے حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ انہیں سیٹلائٹس کی مدد سے شام میں روسی اڈے کی تصاویر ملی ہیں۔ امریکیوں کا دعویٰ ہے کہ روس شام کے اللاذقیہ شہر میں اپنا فوجی اڈہ تعمیر کر رہا ہے جہاں "ٹی 90" نامی چھ ٹینک پہنچا دیے گئے ہیں۔ تاہم شام میں متعین روسی سفیرنے امریکیوں کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ شام میں روسی فوج کی موجودگی کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے"رائیٹرز" کے مطابق روس نے شام میں زیرتعمیر فوجی اڈے پر بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ساتھ ساتھ فوجیوں کی بڑی تعداد کو بھی جمع کردیا ہے۔ امریکی"فارن پالیسی" کے شعبے کے ویب سائیٹ پر پوسٹ کی گئی تصاویر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ان میں سے تین تصاویر "گوگل ارتھ" سے حاصل کی گئی ہیں جس کے بعد شام میں روسی فوج کے اڈے کےقیام کے بارے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا ہے۔

قبل ازیں شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے ادارے"آبزرویٹری" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بھی یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ روسی فوج اللاذقیہ شہر کے حمیمیم" نامی اڈے کا رون وے تیار کررہےہیں جہاں آئندہ ایام میں روسی طیاروں کو اتارا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں