خامنہ ای کی امریکا کو جنگ کے سنگین نتائج کی دھمکی

'جنگ کی صورت میں دشمن کو ناک رگڑنے پر مجبور کریں گے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی #خامنہ_ای نے جنگ کی صورت میں #امریکا سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر #تہران پر حملہ کیا گیا تو دشمن کو ناک رگڑنے پر مجبور کردیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی رہ براعلیٰ کا دھمکی آمیزبیان حال ہی میں ایک ویڈیو فوٹیج میں سامنے آیا ہے۔ ویڈیو میں پہلے تو امریکی صدر براک اوباما کی تقاریر کے کچھ اقتباسات پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں صدر #اوباما کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے ہر صورت میں روکنا ہے۔ اگر بات چیت سے کام نہ بنا تو تہران کے خلاف فوجی طاقت کا آپشن موجود ہے۔

صدر اوباما کے بیانات کے بعد اس کے رد عمل میں آیت اللہ خامنہ ای کی تقاریر کے کچھ حصے پیش کیے گئے ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ دھمکی آمیز الفاظ رہ بر انقلاب نے پچھلی عیدالفطر کے موقع پر خطاب میں استعمال کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نہیں چاہتا مگر تہران کوجنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو زخم چاٹنے پر مجبور کردیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر کے دھمکی آمیز بیان پرمبنی فوٹیج ان دنوں امریکی میڈیا میں بھی بڑے پیمانے پر نشر کی جا رہی ہیں۔ اس ویڈیو کو امریکی ری پبلیکن پارٹی کے سیاست دان صدر باراک اوباما کے خلاف اور تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی مخالفت میں استعمال کررہے ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی حکام کی طرف سے سامنے آنے والی دھمکیاں محض عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہیں۔ ورنہ ایران کی موجودہ حکومت امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا چاہتی ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایران نے "مرگ برامریکا" کا نعرہ بھی ترک کردیا ہے۔ امریکی تاجروں کو ایران میں آنے اور سرمایہ کاری کی اجازت دے دی گئی ہے۔ سرکاری تقریبات میں امریکا کا پرچم بھی لہرایا جانے لگا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں