گوگل کی پناہ گزینوں کی مدد کے لئے 11 ملین ڈالر کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کی دنیا کی مقبول کمپنی #گوگل نے ایک نئی مہم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت #یورپ میں آنے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی مختلف تنظیموں کے لئے 11 ملین ڈالر کی رقم جمع کی جائیگی۔

گوگل نے اس مہم کے آغاز کے لئے اپنے روایتی عمل سے ہٹ کر کمپنی کے ذاتی بلاگ سے لوگوں کو عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔ گوگل عام طور پر کوئی بھی اہم اعلان اپنی کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں سے کرواتا ہے مگر اس بار انہوں نے عطیات کی اپیل کمپنی کی ایک افغان نژاد ورکر 'ریٹا مسعود' سے کروائی ہے۔ ریٹا مسعود نے بچپن میں کابل سے فرار ہونے کی ذاتی کہانی لکھ کر لوگوں سے عطیات دینے کی اپیل کی ہے۔

ریٹا نے بلاگ میں لکھا ہے "میرے کابل سے فرار کے سفر میں بہت سی تاریک ٹرین اور بسوں کے سفر شامل تھے اور اس کے علاوہ سفر کے دوران ہمیں شدید بھوک، پیاس، ٹھنڈ اور خوف کا سامنا تھا۔ میں بہت خوش قسمت تھی مگر یورپ میں مہاجروں اور پناہ گزینوں کا بحران بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور میرے خاندان جیسے بہت سے لوگوں کو مدد کی اشد ضرورت ہے۔"

یہ عطیات مہاجرین اور پناہ گزینوں کو مختلف سہولیات فراہم کرنے والی چار این جی اوز کو جائیں گی جن میں ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، سیو دی چلڈرن اور اقوام متحدہ کے کمشن برائے مہاجرین شامل ہیں۔

گوگل کا کہنا تھا کہ وہ پہلے عالمی سطح پر 5٫5 ملین ڈالر کے عطیات جمع کریں گے جس کے بعد 11 ملین ڈالر کی رقم جمع کی جائیگی۔ گوگل نے عطیات جمع کروانے کے لئے اپنی ویب سائٹ پر google.com/refugeerelief کا لنک دیا ہے۔

یورپ کو جنگ عظیم دوم کے بعد مہاجرین کی آبادکاری کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ ان پناہ گزینوں میں ایک بڑی تعداد چار سالہ خانہ جنگی اور انتہا پسند گروپ داعش سے تنگ آکر ہجرت کرنے والے شامی باشندوں کی ہے۔ ان مہاجرین میں افغانستان، یمن، عراق اور لیبیا کے شہری بھی شامل ہیں

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں