ابوسیاف کے خلاف مشترکہ آپریشن کی تازہ تفصیلات جاری

کارروائی میں امریکی ڈیلٹا فورس اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر شامل تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آج سے چارہ ماہ پیشتر #شام" کے #دیر_الزور شہر میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی #عراق و #شام" #شام #داعش کے خود ساختہ خلیفہ #ابوبکر_البغدادی کے نائب #ابو_سیاف کے خلاف آپریشن کی تازہ تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ یہ آپریشن امریکی ڈیلٹا فورس اور برطانوی کمانڈوز نے مشترکہ طور پر کیا تھا، جس میں مقامی کرد ملیشیا نے ان کی رہ نمائی کا فریضہ انجام دیا۔

اس آپریشن کی تازہ تفصیلات برطانوی اخبار "ڈیلی میل" نے شائع کی ہیں۔ آپریشن کے حوالے سے نئی معلومات اخبار کو اس 18 سالہ یزیدی دوشیزہ نے بتائیں جو آپریشن کے وقت ابو سیاف کے ٹھکانے میں موجود تھی مگر آپریشن کے دوران اسے اور ابو سیاف کی اہلیہ ام سیاف کو زندہ پکڑ لیا گیا تھا۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور برطانوی فورسز نے پوری راز داری کے ساتھ نہ صرف ابو سیاف کو ٹھکانے لگایا بلکہ اس کی بیوی جو خود کو داعش کی یرغمالی قرار دے کر فرار کی کوشش کررہی تھی کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

برطانوی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے ابوسیاف کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بارے میں بتایا یہ اس آپریشن میں 'بلیک ہاک' امریکی ہیلی کاپٹروں اور امریکی ڈیلٹا فورس کے 15 اسیشل کمانڈوز نے حصہ لیا۔ آپریشن کے لیے 16 مئی کی رات کے ابتدائی حصے کا انتخاب کیا گیا۔ امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر البغدادی کے مقرب کے اس خفیہ کمپائونڈ کی طرف روانہ ہوئے مبینہ طور پر ابو سیاف کئی ماہ سے نہ صرف مقیم تھا بلکہ تنظیم کے تیل کے تمام معاملات کو بھی ڈیل کررہا تھا۔

امریکی اور برطانوی کمانڈوز پر مشتمل فورس ابو سیاف اور اس کی اہلیہ کے ٹھکانے پر مقامی کرد ملیشیا کی معاونت سے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ امریکی خفیہ ادارے "سی آئی اے" اور وزارت دفاع "پینٹا گون" کو بھی ابو سیاف کے اسی جگہ ٹھکانے کے بارے میں خفیہ معلومات ملی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ابو سیاف کے خلاف آپریشن دو بارملتوی کیا گیا۔ پہلی بار "آپریشل گائیڈنس" کے حوالے سے درپیش مشکلات کے باعث آپریشن ملتوی کرنا پڑا جب کہ دوسری بار خراب موسم سے کارروائی روکی گئی۔ اس دوران امریکی ڈیلٹا فورس اور برطانوی ماہرین نے ٹیلی اسکوپ عدسے سے لیس سپر ریزولیشن کمیرے ابو سیاف کی رہائش گاہ کے آس پاس نصب کیے۔ کیمروں کی تنصیب کے عمل میں کامیابی کے بعد ان سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں مقامی وقت کے مطابق رات اڑھائی بجے ابو سیاف کی پناہ گاہ پر بمباری کی گئی۔

اس آپریشن میں نہ صرف ابو سیاف کو ہلاک کیا گیا بلکہ اس کی بیوی جو یرغمال بنائی گئی یزیدی خواتین کی نگران تھی، کو حراست میں لیا گیا۔ ایک یزیدی لڑکی کو بازیاب کرایا گیا۔ اس کےعلاوہ داعش کے بارے میں معلومات کا وسیع خزانہ وہاں سے ملا۔ وہاں سے ملنے والی معلومات سے پتا چلتا ہےکہ داعشی جنگجو ایک دوسرے سے کس طرح مواصلاتی رابطوں کے ساتھ مربطو ہوتے ہیں۔ نیز تیل کے معاملات کو کیسے چلایا جاتا تھا اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو کن کن کاموں پر صرف کیا جاتا۔

بازیاب ہونے والی یزیدی لڑکی نے بتایا کہ جب مکان پر بمباری شروع ہوئی تو اس وقت ابو سیاف، اس کی اہلیہ ام سیاف، اس کی ایک ہمشیرہ اور ایک بھائی ایک ہی جگہ موجود تھے۔ ام سیاف کا بھائی اپنے بہنوئی کے باڈی گاڈ کے طور پر اس کے ساتھ تھا۔ امریکی اور برطانوی فوج نے یہ آپریشن نہایت راز داری میں کیا تاہم بعد ازاں پوری تاکید اور تصدیق کی بعد اس کی خبر نشر کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں