حجاب کو"مذاق" بنانے پرایرانی دوشیزائوں کو جرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#ایران کی حکومت #حجاب اور پردے کی جتنی کوشش کرتی ہے نوجوان خواتین کی جانب سے اس پر اتنا ہی شدید رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ حال ہی میں #تہران حکومت نے نامناسب طریقے سے حجاب کرنے پر دو خواتین کو 260 ڈالر جرمانہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ایرانی ذرائع ابلاغ نے عدلیہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جرمانے کی سزا پانے والی دونوں خواتین نے حجاب کو مذاق بنا رکھا تھا۔

فارسی اخبار "ارمان" نے عدالتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ پچھلے کچھ ایام کے دوران عدالتوں نے حجاب اوڑھنے کے حوالے سے ہونے والی خلاف ورزیوں اور ان کی روک تھام کے مقدمات نمٹائے گئے۔ اس دوران دو خواتین کو حجاب کو نامناسب انداز میں اوڑھنے پر نو ملین ایرانی ریال یعنی 260 امریکی ڈالر کے مساوی رقم جرمانہ کیا گیا۔ تاہم اس کیس کی مزید تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

خیال رہے کہ سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے انقلاب کے بعد ملک میں مقامی اور غیر ملکی خواتین کے لیے حجاب کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم سنہ 1990ء میں بہ تدریج ترک حجاب کے رحجان زور پکڑا۔ پولیس نے خواتین کو حجاب کا پابند بنانے کے لیے مختلف مہمات بھی چلائیں مگر ان کا خاطر خواہ اثر نہیں پڑا۔

دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقوں کے دولت مند گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین میں کندھوں تک اسکارف اوڑھنے کا کلچر زیادہ مقبول ہوا۔ بعد ازاں زیادہ روشن خیال طبقات نے چست لباس زیب تن کرنے اور سر کے بال ظاہر کرنے کا سلسلہ بھی شروع کردیا۔ یہ رحجان اب تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

ایران کے موجودہ اعتدال پسند صدر #حسن_روحانی نے ملک میں فراخ دلانہ سیاسی سماجی ماحول کے فروغ بالخصوص مثالی لباس کے معاملے میں انہوں نے ماضی کی سختیوں میں نرمی کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود ایران میں لبرل طبقات اور بنیاد پرستوں میں کشمکش جاری ہے۔ حال ہی میں تہران کی پولیس کی جانب سے ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ننگے سر گاڑی چلانے والی خواتین کی گاڑیاں ضبط کرلی جائیں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں