دُشمن 'فیصلہ ساز' اداروں تک رسائی چاہتے ہیں: خامنہ ای

پارلیمانی انتخابات میں اصلاح پسند جیت سکتے ہیں: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

#ایران کے رہ برِاعلیٰ آیت اللہ علی #خامنہ_ای نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایران کے مخالفین ملک میں قوت کے مراکز اور فیصلہ ساز اداروں تک رسائی حاصل کر کے #ولایت_فقیہ کے انقلاب کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ کو #پاسداران_انقلاب کی سرکردہ قیادت کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ 'ڈر ہے کہ مخالفین اورد شمن " فیصلہ ساز" اداروں تک رسائی نہ حاصل کرلیں۔ اس وقت ملک کو سب سے بڑا خطرہ انہی لوگوں سے ہے کیونکہ یہ افراتفری کے ذریعے ملک کے فیصلہ ساز مراکز تک پہنچنا چاہتے ہیں'۔

اپنی تقریر میں آیت اللہ علی خامنہ ای نے مخالفین کے لیے "دشمن" کی اصطلاح استعمال کی۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ ہمارے کچھ دشمن اندرون ملک اور کچھ باہر ہیں۔ بیرونی دشمنوں میں #امریکا اور مغربی ممالک سر فہرست ہیں جب کہ اندرون ملک پائے جانے والے دشمنوں میں وہ گروپ اور اپوزیشن کے وہ دھڑے ہیں جو ملک میں مرضی کا نظام لانا چاہتے ہیں۔

سپریم لیڈر نے خبردار کیا کہ ہمارے اندورنی اور بیرونی دشمن آپس میں شیرو شکر ہیں اور وہ مل کر ایران کے فیصلہ ساز مراکز پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دس سال بعد دنیا موجودہ ایران کی جگہ ایک نیا ایران دیکھے گی۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم دشمن کو اس شیطانی سوچ اور چال کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع فراہم نہ کریں۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمیں اقتصادی ابتری اور بد امنی جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے مگر اس سے کہیں زیادہ خطرناک نظریاتی رسوخ اور ثقافتی اور سیاسی سرگرمیاں ہیں جو ملک کوکھوکھلا کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب سمیت ایران کے تمام ادارے مخالفین کے سیکیورٹی نفوذ کو پوری طاقت سے روکیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے لیڈروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاثرغلط ہے کہ ایران انقلاب کے مرحلے سے نکل چکا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ایران انقلاب کے مرحلے سے نکل کر ریاست کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، لیکن میں واضح کردوں کہ انقلاب کے اصول تبدیل ہوئے اور نہ ہی کبھی تبدیل ہوں گے۔

انہوں نے اپوزیشن کو بار دگر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مخالفین یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے علاقائی قوتوں کے ساتھ بھی روابط ہیں۔ وہ ایران کو عالمی برادری کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ایران کو عالمی برادری کا حصہ قرار دینے کا مطلب ایرانی قوم کے عزم کو توڑنا اور پوری قوم کو جابر قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا ہے۔

خطے کی تبدیلیوں سے ایران خوف زدہ

درایں اثناء ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مندوب علی سعیدی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم اندرون ملک رو نما ہونے والی تبدیلیوں اور پورے خطے میں تبدیلیوں کو باریکی سے مانیٹر کررہے ہیں۔ ہمیں کسی بھی ناخوش گوار تبدیلی سے ملک کو بچانا ہے، اس لیے پاسداران انقلاب اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔ ہمارا مقصد اسلامی جمہوری انقلاب کے اصولوں کا تحفظ ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام بھی انقلاب ایران کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عصر حاضر کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم خود کو اندرونی اور بیرونی چیلنز کا مقابلہ کرانے کے لیے ہمہ وقت تیار رکھیں۔

ایرانی پاسداران کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری کا ایک بیان بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم خطے میں مزاحمتی قوتوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب ایران کےاندر کسی بھی قسم کی بد نظمی کو پوری قوت سے کچل دے گی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی رہ نمائوں کے ان بیانات سے مترشح ہوتا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت سب بھی سیاسی مخالفین سے خوف زدہ ہیں۔ خاص طورپر ملک کے اعتدال پسند اور اصلاح پسند گروپوں کی مقبولیت موجودہ حکمران طبقے کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے، کیونکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں مغرب کے زیادہ قریب سمجھے جانے والے اصلاح پسندوں کی جیت کے زیادہ امکانات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم لیڈر خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ مخالفین فیصلہ ساز اداروں تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں