سعودی عرب: مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کے تقدس کو پامال کرنے کی مذمت کی ہے اور اسرائیلی فورسز کی مسلمانوں کے قبلہ اوّل میں جارحانہ کارروائیوں پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

سعودی عرب کے ایک سرکاری ذریعے نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت کے نتیجے میں صورت حال بگڑتی ہے تو صہیونی ریاست کو ان تمام مضمرات کا مکمل ذمے دار گردانا جائے گا۔اس ذریعے نے اس بات کی ضرورت پر زوردیا ہے کہ کسی بھی قسم کے حملے سے سنگین نتائج مرتب ہوسکتے ہیں اور اس سے انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ ملے گا۔

سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں اسرائیل کے مسجد الاقصیٰ میں اقدامات کو طے شدہ اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے۔اس نے مسجد الاقصیٰ اور وہاں عبادت کے لیے وقت کو مسلمانوں اور یہود کے درمیان تقسیم کرنے کی پالیسی کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں سے کشیدگی ہی بڑھے گی اور اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔

سعودی مملکت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیل کی بارڈر پولیس کے حملوں کو رکوانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

درایں اثناء سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فلسطینی صدر محمود عباس کو مطلع کیا ہے کہ وہ مسجد الاقصیٰ میں حالیہ تنازعے کے معاملے پر عالمی لیڈروں سے رابطے میں ہیں۔انھوں نے سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ مسجد الاقصیٰ کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ یہود کے نئے سال کے آغاز کے موقع گذشتہ اتوار کی شب مسلمانوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان مسجد الاقصیٰ کے احاطےمیں جھڑپیں ہوئی تھیں اور یہ سلسلہ منگل تک جاری رہا تھا۔

اسرائیلی پولیس فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مسجد کے اندر داخل ہوگئی تھی اور اس نے اس مقدس مقام کی بے حرمتی کے علاوہ وہاں پڑی اشیاء کو نقصان پہنچایا تھا۔عرب دنیا نے مسلمانوں کے قبلۂ اوّل کے تقدس کو پامال کرنے کی مذمت کی ہے اور اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی میں اضافے سے صورت حال کنٹرول سے باہر ہوسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے ایلچی نیکولے ملادینوف نے منگل کے روز خبردار کیا تھا مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ اس قدیم شہر کی چار دیواری سے باہر بھی جاسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ ہی تشدد اور انتہا پسندی کی لہر کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔

یہودیوں کے نئے سال کے آغاز کے موقع پر ایک ہزارسے زیادہ سیاحوں کی مسجد الاقصیٰ میں آمد ہوئی تھی جس کی وجہ سے فلسطینیوں اور مسلم حکام کے اس خدشے کو تقویت ملی تھی کہ اسرائیل اس مقدس مقام کے موجودہ انتظام کو ختم کرنا چاہتا ہے اور مسجد الاقصیٰ کے استعمال کے حق کو یہود اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہے۔اس کے تحت یہود کو صبح کے اوقات میں مسلمانوں کو باقی دن کے دوران مسجد میں عبادت کا حق حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ یہود کو بعض مواقع پرمسجدالاقصیٰ میں داخلے کی اجازت ہے لیکن انھیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں ان کے اور مسلمان عبادت گزاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی چھے روزہ جنگ کے دوران بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس کو صہیونی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں