ہنگری میں مہاجرین سے ناروا سلوک ناقابل قبول:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے ہنگری میں پناہ گزینوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ہنگری کی پولیس نے سربیا کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر موجود پناہ گزینوں پر اشک آور گیس کے گولے ہیں جس سے متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی۔

بین کی مون نے نیوزکانفرنس میں کہا ہے کہ ''میں ان مہاجرین اور تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کو دیکھ کر صدمے سے دوچار ہوگیا ہوں۔یہ قابل قبول نہیں ہے''۔

ان سے جب ان پناہ گزینوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی رپورٹس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے ''یہ لوگ تو جنگ اور اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ کر وہاں پہنچے ہیں۔ان کے ساتھ تو حسن سلوک کا معاملہ کیا جانا چاہیے،ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور ان کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک کرنا چاہیے''۔

ہنگری نے بدھ کے روز سربیا کے ساتھ واقع اپنی جنوبی سرحد بند کر دی تھی جس کے بعد ہنگری کی پولیس اور سیکڑوں تارکین وطن کے درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں ہوتی رہی تھیں۔پولیس نے ان مہاجرین پر قابو پانے کے لیے اشک آور گیس کے کم سے کم بیس گرینیڈز پھینکے تھےاور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔جس سے بچوں سمیت بیسیوں افراد متاثر ہوئے تھے۔بعد میں اس سرحدی گذرگاہ پر متاثرین کو لینے کے لیے ایمبولینس گاڑیاں بھیج دی گئی تھیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے سربراہ انٹونیو گٹرس نے کہا ہے کہ ''سرحد عبور کرنا کوئی جرم نہیں ہے''۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ہنگری مہاجرین کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

انھوں نے ہنگری کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ تحفظ کے خواہاں لوگوں کی کسی روک ٹوک کے بغیر رسائی کو یقینی بنائیں اور اپنی اخلاقی اور قانونی ذمے داری پوری کریں''۔ اقوام متحدہ قبل ازیں بھی یورپی لیڈروں سے متعدد اپیلیں کرچکی ہے کہ وہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے انسانی حقوق کا احترام کریں۔

درایں اثناء ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربن نے کہا ہے کہ وہ کروشیا کے ساتھ واقع سرحد پر ایک نئی دیوار تعمیر کرائیں گے تاکہ پناہ گزینوں کو ملک سے دور ہی رکھا جاسکے۔انھوں نے فرانسیسی اخبار لی فگارو کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ بات کہی ہے اور ان کا یہ انٹرویو جمعرات کو شائع ہوا ہے۔

اس سے پہلے ہنگری نے سربیا کے ساتھ واقع سرحد پر ایسی ہی دیوار تعمیر کررکھی ہے۔واضح رہے کہ سربیا کی سرحدی گذرگاہ کے ذریعے ہنگری میں داخل ہونے کے بعد ہی پناہ گزین یورپی ممالک کی جانب جا سکتے ہیں۔مسٹر اوربن کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلر ایک دروازہ بند ہونے کے بعد یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے دوسرے دروازے تلاش کرلیتے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ ''اب چونکہ وہ ہنگری کے ذریعے آگے نہیں جاسکتے تو وہ اپنا روٹ تبدیل کرلیں گے اور غالباً رومانیہ کے ذریعے جائیں گے۔اس لیے ہم نے رومانیہ کے ساتھ سرحد پر دریائے مریس کے کنارے پر بھی باڑ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم کروشیا کے ساتھ سرحد پر بھی ایسا کریں گے اور ہم ان کا ہر طرح سے پیچھا کررہے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''حقیقت یہ ہے کہ مہاجرین آرہے ہیں۔ہم انھیں ہنگری کی سرحد پر روکنے میں کامیاب ہوگئے ہیں لیکن اس سے مہاجرین کا سیلاب رکے گا تو نہیں''۔

دوسری جانب پڑوسی ملک رومانیہ کی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز ہنگری کے سفیر کو طلب کیا ہے کہ ان سے بڈاپسٹ کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد پر یک طرفہ طور پر باڑ لگانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں