.

تارکینِ وطن کی آمد، کروشیا نے سربیا کے ساتھ سرحد بند کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کروشیا نے ہزاروں تارکین وطن اور مہاجرین کی آمد کے پیش نظر پڑوسی ملک سربیا کے ساتھ واقع اپنی آٹھ میں سے سات سرحدی گذرگاہیں تاحکم ثانی بند کردی ہیں۔

کروشیا کی وزارت داخلہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں اطلاع دی گئی ہے کہ ''ٹوارنیک ،ایلوک ،ایلوک 2،پرنسی پوواچ ،پرنسی پوواچ 2،باٹینا اور ایردت کی سرحدی گذرگاہوں کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے''۔

وزارت نے مزید بتایا ہے کہ ''بدھ کے بعد سربیا سے گیارہ ہزار سے زیادہ تارکین وطن کروشیا میں داخل ہوئے ہیں''۔واضح رہے کہ ہنگری نے اسی ہفتے سربیا کے ساتھ واقع اپنی سرحد کو سیل کردیا ہے جس کے بعد تارکینِ وطن اور مہاجرین کروشیا کا رُخ کررہے ہیں۔

ہنگری اور سربیا کے درمیان واقع کی سرحدی گذرگاہ یورپی یونین میں داخلے کا اہم روٹ ہے اور اس کی بندش سے قبل اس سال اب تک دولاکھ سے زیادہ تارکین وطن ہنگری داخل ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ ترکا تعلق مشرق وسطیٰ کے ممالک اور افغانستان سے ہے اور وہ وہاں جاری جنگوں میں جانیں بچا کر یورپ کا رخ کررہے ہیں۔

کروشیا کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو آزادانہ داخلے اور دوسرے یورپی ممالک کی جانب جانے کی اجازت دے گا لیکن کروٹ وزیراعظم زوران میلانووچ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے ملک کے پاس بہت محدود وسائل ہیں اور وہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے تارکینِ وطن کو بسانے اور ان کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔

سلوینیا نے جمعرات کی شب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر کروشیا سے آنے والے مہاجرین کی ایک ٹرین کو روکنے کی اطلاع دی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ اس میں سوار قریباً ڈیڑھ سو افراد کو واپس زغریب بھیج دیا جائے گا کیونکہ ان کے پاس آگے جانے کے لیے سفری دستاویزات نہیں ہیں۔اس کے بعد اس نے جمعہ کی صبح تک کروشیا اور سلوینیا کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو بھی معطل کردیا ہے۔