.

حج میں رکاوٹ پیدا کرنے کی ہر سازش ناکام ہوگی: سعودی ولی عہد

'دوران حج کسی کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے ولی عہد شہزادہ #محمد_بن_نائف بن عبدالعزیز آل سعود نے کہا ہے کہ #حج کے موقع پر امن وامان کو یقینی بنانے کے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ دوران حج کسی شرپسند کو مناسک حج کی ادائی میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شہزداہ محمد بن نائف نے #ریاض میں حج سے انتظامات سے متعلق ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حج ایک عبادت ہے۔ اس دوران کسی کو اپنے مخصوص نظریات کے تحت سیاست بازی کی اجازت دی جائے گی اور نہ کسی قسم کے پروپیگنڈے کو برداشت کیا جائے گا۔

ولی عہد جو حج کے سپریم کمیشن کے سربراہ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ حکومت خادم الحرمین الشریفین #شاہ_سلمان کی قیادت میں رواں سال کے موسم حج کو ہر صورت میں کامیاب بنائے گی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کی طرح اس سال بھی حجاج کرام کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ توسیع حرم کے بعض منصوبوں کی تکمیل کے بعد حرم مکی میں حجاج کرام کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں حرم طرف آنے والی تمام شاہراہوں اور مقدس مقامات تک حجاج کرام کو لے جانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

ولی عہد کا کہنا تھا کہ 1436ھ کے حج کے موقع پر بھی سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ دہشت گردی کی ہر قسم کی سازش کو پوری ریاستی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔ حج کے دوران کسی شرپسند کو اپنی غیرمتعلقہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ حج جیسے عظیم فریضے کی ادائی کےدوران کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور اس کے باوجود کسی کو ایسی مشکوک سرگرمیوں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

کرین حادثے سے حج متاثر نہیں ہوگا

ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف نے گیارہ ستمبر کو حرم مکی میں کرین حادثے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے بعد خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے ہدایات دی گئی تھیں کہ سانحے کی وجہ سے حج کی سرگرمیوں پر کسی قسم کا منفی اثر نہیں پڑنا چاہیے۔ حکومت نے کرین کے حادثے کے باعث متاثر ہونے والے مسجد کے حصے کی مقررہ وقت سے بھی قبل مرمت کردی ہے۔ اس حادثے کو حج کے معمولات پر اثرانداز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد حرام اور حج کے تمام اہم مقامات پر حکومتی اداروں کی سیکڑوں ٹیمیں موجود ہیں جو حجاج کرام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے کی بنیاد پرکام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کرام کو کسی قسم کی پریشانی اور خوف کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ حکومت ان کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔

یمن کے حجاج کا خیر مقدم

ولی عہد کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے #یمن سے آنے والے حجاج کرام کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی ہیں۔ یمن میں جاری لڑائی کے باوجود وہاں سے عازمین حج کی آمد ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔ ہم یمن کے عازمین حج کا خیر مقدم کرتے ہیں جو یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے حامی منحرف صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیا کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو توڑ کر حج کے لیے سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے یمنی بھائیوں کی ہرمشکل میں مدد کی ہے۔ حج کے لیے آنےوالوں ساتھ بھی خصوصی حسن سلوک کیا جائے گا۔ سعودی عرب کی قوم اور قیادت سب اہل یمن کے ساتھ کھڑے ہیں۔

امن وامان کو یقینی بنانے کے حوالے سے ولی عہد نے کہا کہ تمام سیکیورٹی ادارے حج کے دوران الرٹ رہیں گے۔ سیکیورٹی اداروں نے حالیہ ایام میں ریاض میں دہشت گردی کی دو سازشیں ناکام بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کو ان کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔