.

"روس شام میں فوج اتارنے کی درخواست پر غور کرے گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ #ماسکو #شام کے صدر #بشار_الاسد کی جانب سے زمینی فوج بھیجنے کی کسی بھی درخواست پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔

شامی وزیر خارجہ #ولید_المعلم نے اس سے قبل اس خبر کی تردید کی تھی کہ #روس کی زمینی فوج شام میں بشار الاسد کے فوجیوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو شام روس سے مدد کی درخواست کرسکتا ہے۔ روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوو کا کہنا ہے کہ وہ شام کی جانب سے ایسی کوئی درخواست آئی تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائیگا۔

امریکا کو شام میں روسی فوج کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی فورسز کے جمع ہونے پر خدشات ہیں مگر روسی وزیر خارجہ سرگئے لاوروف نے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ شامی حکومت کو #داعش کے خلاف جنگ میں پارٹنر کے طور پر دیکھیں۔

روسی ترجمان کا کہنا تھا کہ اس امر سے متعلق مفروضے کی بنیاد پر بات کرنا مشکل ہے۔

دریں اثناء شامی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ روسی زمیںی افواج کی ابھی ضرورت نہیں ہے۔ المعلم کا کہنا تھا "ابھی تک مجھے یقین ہے کہ شامی فوج صورتحال پر قابو پانے کے لئے کافی ہے اور ہمیں صرف مزید اسلحہ اور معیاری ہتھیاروں کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ہم دہشت گرد گروپوں کا مقابلہ کرسکیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ روس نے شام کو اسلحہ اور ہتھیار پہنچانے کی رفتار کو تیز کردیا ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کے روز شامی فوج کے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی 'رائیٹرز' کو بتایا تھا کہ شامی فوج نے حال ہی میں روس کی جانب سے فراہم کردہ نئے زمین اور فضاء میں ٹارگٹ کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔