اوباما کو نوبل انعام دینے والے شرمندہ کیوں!

امریکی صدر توقعات پر پورا نہیں اتر سکے: لونڈسٹڈ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج سے پانچ سال قبل سنہ 2009ء میں عالم امن #نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے امریکی صدر براک #اوباما کو 'امن کا آئیکون' قرار دیتے ہوئے انہیں نوبل انعام سے نوازا مگر آج وہی کمیٹی امریکی صدر سے مایوس ہے اور انہیں نوبل انعام دینے پر شرمندہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کو سنہ 2009ء میں نوبل انعام سے نوازنے والی کمیٹی کےسابق سیکرٹری جنرل گیر لونڈسٹڈ نے صدر اوباما کی کار کردگی اور ان سے وابستہ توقعات کے بارے میں سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کی یاداشتیں برطانوی اخبار "ٹائمز" میں شائع ہوئی ہیں میں کہا گیا ہے کہ صدر براک اوباما نوبل انعام کی انتظامی کمیٹی کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے ہیں۔

مسٹر گیر لونڈسٹڈ اپنی یاداشتوں میں لکھتے ہیں کہ براک اوباما کو امریکا کا صدر منتخب ہوئے ابھی صرف نوماہ ہی گذرے تھے کہ ان کے لیے نوبل انعام کا اعلان کیا گیا۔ اس پر نہ صرف #امریکا بلکہ پوری دنیا کی جانب سے کمیٹی کو سخت تنقید کا سامناکرنا پڑا تھا۔ مگر کمیٹی صدر اوباما سے بڑی بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ہمیں امید تھی کہ وہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے کوئی جاندار قدم اٹھائیں گے۔ دنیا میں امن وامان کو یقینی بنانے کے حوالے سے صدر اوباما کے اپنے دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوئے۔

نوبل انعام کمیٹی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ "آج صرف میں نہی نہیں بلکہ کمیٹی کے دوسرے ارکان اور وہ تمام لوگ جو صدر اوباما کو نوبل انعام دینے کے پرزور حامی تھی سب آج شرمندہ ہیں۔ آج ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ ہم نے صدراوباما کو امن کا نوبل انعام دے کر ایک غیر مستحق شخص کو نوازا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف باراک اوباما ہی نہیں اس میدان میں کئی دوسرے لوگ بھی ان کی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جنہیں نوبل انعام سے غلط طورپر نوازا گیا۔ ان میں کینیا کے سے تعلق رکھنے والے آنجہانی انجاری ماتھائی بھی شامل ہیں جنہیں 2004ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا مگروہ بھی مشکوک رہے ہیں۔

برطانوی اخبار کے مطابق امن کے نوبل انعام کی ذمہ دار کمیٹی کے سابق سیکرٹری جنرل نے اپنی یاداشتوں میں انکشاف کیا ہے کہ کمیٹی نے 50 سال سے مروجہ روایات کی بھی خلاف ورزی کی کیونکہ کسی بھی شخص کے لیے نوبل انعام کے اعلان سے قبل اس فیصلے کو افشاء نہیں کیا جاتا مگر کمیٹی نے متعدد مرتبہ اس روایت کی بھی خلاف ورزی کی۔

یاد رہے کہ مسٹر گیر لونڈسٹڈ سنہ 1990ء سے 2004ء تک نوبل امن کمیٹی کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں