ایلان کردی کا والد خود بھی انسانی اسمگلر؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چند ہفتے قبل #ترکی کے ایک ساحل سمندر پر پڑی تین سالہ بچے #ایلان_کردی کی لاش نے جب پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تو ایلان کردی اور اس کے والدین مظلومیت کی ایک علامت بن کر دنیا کے سامنے آئے۔ مگر آج کہانی کا ایک دوسرا رخ سامنے آیا ہے اور پتا چلا ہے کہ سمندر میں ڈوب کر مرنے والے شامی بچے ایلان کردی کا والد خود بھی ایک انسانی اسمگلر تھا جو کشتی ڈوبی وہ اس کی اپنی تھی جسے وہ خود ہی چلا رہا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ "یوٹیوب" پر ایک خاتون کی فوٹیج تیزی کے ساتھ مقبول ہو رہی ہے۔ #عراق سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کا دعویٰ ہے کہ وہ بھی اسی کشتی میں سوار تھی جس میں ایلان اس کا بھائی غالب اور اس کے والدین موجود تھے۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ ایلان کا والد "ابو غالب" ہی اس کشتی کا کپتان تھا۔ یہ بات قطعی بے بنیاد ہے کہ کشتی کوئی عراقی اسمگلر چلا رہا تھا۔

عراقی خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دو بچوں حیدر اور زینب کے ہمراہ اس کشتی پر سوار تھی۔ یہ دونوں بچے بھی اس حادثے میں مارے گئے۔ ہمیں کشتی میں بٹھانے والوں میں بھی ابو غالب پیش پیش تھے اور وہی کشتی چلاتے رہے۔ اگرچہ اس ویڈیو اور اس میں کیے گئے خاتون کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی تاہم خاتون کے دعوے کے تحت ابو غالب خود ایک انسانی تاجر تھا جو خود ہی کشتی بھی چلا رہا تھا۔

عراقی خاتون نے ایلان کردی کے والد کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ابو غالب نے دعویٰ کیا تھا کہ کشتی پر ایک عراقی خاندان بھی سوار تھا جو کشتی ڈوبتے وقت فرار میں کامیاب ہوگیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایلان الکردی کے والد سے رابطے کی کوشش کی تاہم ان سے بات نہیں ہوسکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں