مدینہ منورہ کے توسیعی منصوبوں کا ایک جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

#سعودی_عرب کی حکومت نے جہاں #مسجد_حرام کی توسیع کا ایک عظیم الشان منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ حجاج کرام اور معتمرین کو بیت اللہ کے دیدار کے شرف سے فیض یاب ہونے کا موقع فراہم کیا جائے ہیں حرم ثانی [مسجد نبوی] کی توسیع کے ساتھ اس کے ارد گرد بھی کئی توسیعی منصوبوں پرتیزی کے ساتھ کام جاری ہے۔

العربیہ ٹی وی نے اپنے کیمرے کے مدد سے #مدینہ منورہ میں جاری توسیعی منصوبوں کا ایک جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق توسیع کے بعد مسجد نبوی مزید 10 لاکھ مربع میٹر وسیع ہوجائے گی۔ توسیع مسجد نبوی اور اس کے ملحقہ منصوبہ جات کی براہ راست نگرانی سعودی وزارت مالیات کررہی ہے۔ وزارت العربیہ کی ٹیم نے وزارت مالیات کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینیر ابراہیم الطریری سمیت کئی دیگرعہدیداروں سے تفصیلی بات چیت کی اور توسیعی منصوبوں کے حوالے سے ناظرین کے لیے رہ نمائی کا انتظام کیا ہے۔

انجینیر ابراہیمی الطریری نے "العربیہ" کو بتایا کہ مدینہ منورہ میں توسیع کا منصوبہ صرف #مسجد_نبوی کی توسیع تک محدود نہیں بلکہ اس سے ملحق کئی دوسرے منصوبے بھی جاری ہیں۔ ان میں سے بعض کا براہ راست اور کچھ کا بالواسطہ طور پر مسجد نبوی سے تعلق ہے۔ توسیعی منصوبوں میں مدینہ منورہ کے مرکزی علاقے کی توسیع، دارلھجرہ کمپنی پروجیکٹ جو 100 ہوٹلوں، کمرشل اور رہائشی عمارتوں پر مشتمل ہے، دیگر سروسز۔ نیز مسجد نبوی اور مسجد قباء کو باہم ملانے والا درب السنہ پروجیکٹ بھی توسیع کی اسکیموں کا حصہ ہے۔

مسجد نبوی اور مدینہ منورہ کی توسیع کے منصوبوں میں ایک اہم ترین منصوبہ مسجد نبوی کو مسجد قباء کےساتھ ایک پیدل راستے کے ذریعے مربوط کرنا کا بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کو "درب السنہ" کا نام دیا گیاہے۔ اس منصوبے کی منصوری خادم الحرمین الشریفین کے دورہ مدینہ منورہ کے موقع پر دی گئی تھی۔ اس کا مقصد مسجد نبوی سے مسجد قبا تک پیدل چلنے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرنا ہے۔

تین کلومیٹر کا یہ یہ پیدل راستہ بھی 300 میٹر کشادہ بنایا جا رہا ہے۔ راستے کےآس پاس کئی تجارتی اور رہائشی منصوبے بھی جاری ہیں۔ یوں اس پروجیکٹ کے تحت مسجد نبوی کے جنوبی اور مسجد قبا کے شمالی حصے کو باہم مربوط بنایا جائے گا۔

اسی منصوبے کے تحت سعودی وزارت مالیات نے 9 لاکھ 29 ہزار مربع میٹر پر 840 رئیل اسٹیٹ منصوبے بھی شامل کیے ہیں جن پر جلد ہی کام شروع ہوگا۔ وزارت مالیات کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ مسجد نبوی اور مسجد قبا کو باہم ملانے کے لیے راستے اور اس کے آس پاس کے توسیع اور تعمیراتی منصوبوں پر 10 ارب ریال کے اخراجات آئیں گے۔

عینی پروجیکٹ پانی ، بجلی اور دیگر خدمات کی فراہمی کا منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے تحت 18 ملین مربع میٹر رقبے پر تعمیراتی سرگرمیوں سے متاثرہ شہریوں کو معاوضوں کی ادائی بھی شامل ہے۔ مقامی شہریوں سے حاصل ہونے والی اراضی کے 15 ہزار پلاٹ تیار کیے گئے ہیں۔ مقامی شہریوں سے خریدی گئی اراضی پر مدینہ منورہ کے مختلف علاقوں کومیٹرو کے ذریعے مسجد نبوی کے ساتھ مربوبط کرنا بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔

مسجد نبوی کی توسیع کا کام ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ توسیع کا پہلا منصوبہ خلفاء راشدین کے دور میں ہوا۔ کے بعد اموری دور خلافت میں بھی مسجد نبوی کی توسیع کی گئی۔ پھر دور عباسی اور دور عثمانی میں بھی حرم نبوی کی توسیع ہوئی۔ موجودہ سعودی حکومت نے توسیع مسجد نبوی کے تمام سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیے ہیں۔ سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کے توسیعی پروجیکٹ سے قبل شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور بھی مسجد نبوی کی توسیع ہوچکی ہے۔ موجودہ توسیع خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم سے جاری ہے۔ جاری توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد مسجد نبوی میں 16 لاکھ افراد ایک ہی وقت میں مسجد نبوی میں نماز ادا کرسکیں گے۔

توسیع مسجدی نبوی کے تیسرے مرحلے کا آغاز روساں سال مارچ میں ہوا۔ اس مرحلے میں دو لاکھ مربع میٹر کی جگہ کی توسیع کی گئی۔ منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے 10 ہزار مزدور، ماہرین تعمیرات اور ان کے معاونین دن رات سرگرم عمل رہے اور انہوں نے مجموعی طورپ 33 ملین گھنٹوں میں رواں سال جولائی میں اس مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

دارالہندسہ پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد کحالہ نے "العربیہ" کو بتایا کہ مسجد نبوی کے موجودہ توسیع مرحلے میں مسجد کی مشرقی اور مغربی سمت کی طرف سے عمارت کی تعمیر شامل ہے۔ مستقبل کے مراحل میں مسجد کی شمالی سمت میں تعمیر کے ساتھ پرانی مسجد نبوی کو توسیع شدہ علاقوں پل کے درمیان مربوط بنانے کام کام شروع کیا جائے گا۔

العربیہ ٹی وی نے توسیع کے جاری منصوبوں کو بھی اپنے کیمرے کی مدد سے دکھانے کی کوشش کی ہے۔

دارالھجرہ پروجیکٹ مدینہ منورہ کی توسیع کا اہم ترین منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مدینہ منورہ میں آنے والے زائرین بالخصوص روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دینے والوں کو بہترین قیام کی سہولیات مہیا کرنا ہے۔ اس منصوبے کو دارالھجرہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت مرکزی علاقے کی ڈویلپمنٹ کی جا رہی ہے۔ مسجد نبوی سے تین کلو میٹر کی مسافت پر جاری اس منصوبے پر دن رات کام ہو رہا ہے جہاں دو لاکھ 20 ہزار زائرین کے قیام کا بندوبست کیاجا رہا ہے۔ مجموعی طورپر یہ توسیعی منصوبہ 1.6 ملین مربع میٹرتک پھیلا ہوا ہے جس کی تعمیر پر 55 ملین ریال کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت 82 ٹاور صرف ہوٹلوں کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 12 عمارتوں کو انتظامی امور اور دفاتر کے لیے استعمال کیا جائے گا جن میں 31 ہزار ملازم کام کریں گے۔ یہ منصوبہ 14 مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان کی نگرانی سعودی انویسٹمنٹ فنڈ کررہا ہے۔

دارالھجرہ پروجیکٹ مسجد نبوی کی جنوبی مغربی سمت میں کوئی تین سو کلو میٹرکی دوری پر ہے۔ یہاں سے میقات 3 کلو میٹر اور مسجد قبا کا فاصلہ 900 میٹر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں