.

سعودی اور دیگر یرغمالیوں کی یمن سے مسقط حوالگی

مختلف ملکوں کے شہری 180 دن تک یمنی حوثی باغیوں کے اسیر رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

'العربیہ' کو اپنے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کئی ملکوں سے تعلق رکھنے والے یرغمالیوں کو لیکر ایک جہاز صنعاء سے مسقط روانہ ہو گیا۔ ان یرغمالیوں کو سلطنت آف عمان میں ایک ثالث [مڈل مین] کے حوالے کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق دو یرغمالی سعودی عرب کے شہری ہیں جبکہ تین امریکی اور ایک کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ تمام یرغمالی عام شہری ہیں اور حوثیوں نے انہیں یمن میں اتحادی فوج کے آپریشن 'فیصلہ کن طوفان' سے قبل اغوا کیا تھا۔

ادھر یمنی دارلحکومت میں سیکیورٹی اور فوجی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صنعاء کے متعدد کیمپوں میں ریپبلیکن گارڈز اور حوثی باغیوں سے تعلق رکھنے والی فوج کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔ ان جھڑپوں کی وجہ ری پبلیکن گارڈز کے افسروں اور فوجیوں کی جانب سے حوثیوں کے مارب اور صعدہ کی سمت مارچ کے احکامات ماننے سے انکار بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ باغیوں نے فوجیوں اور افسروں سے زبردستی اسلحہ چھیننے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مسلح جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں فریفین کے دسیوں افراد ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔