امریکا سے دشمنی میں کمی آگئی،عدم اعتمادی برقرار ہے:روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن نے تاریخی جوہری معاہدے کی صورت میں اپنی دشمنی کم کرنے کے لیے پہلا قدم اٹھا دیا ہے لیکن ان کے بہ قول دونوں ممالک کے درمیان فاصلے ،عدم اعتمادی اور عدم توافق برقرار ہے اور یہ بہت جلد ختم نہیں ہوگا۔

وہ امریکی ٹیلی ویژن چینل سی بی ایس نیوز کے پروگرام''60 منٹ'' میں گفتگو کررہے تھے۔حسن روحانی نے انٹرویو کے دوران کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا اہم ہے؟کیا ہم دشمنی بڑھانے کی جانب گامزن ہیں یا اس میں کمی لارہے ہیں؟مجھے یقین ہے کہ ہم نے اس دشمنی کو کم کرنے کی جانب پہلا اقدام کرلیا ہے۔

ایرانی صدر سے امریکی ٹی وی نے تہران میں یہ انٹرویو لیا تھا اور یہ اتوار کو نشر کیا گیا ہے۔انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی پارلیمان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ جولائی میں طے پائے جوہری معاہدے کی منظوری دے دے گی۔

انھوں نے یہ بھی پیشین گوئی ہے کہ ایران اس معاہدے کی منظوری دے دیتا ہے تو پھر پاسداران انقلاب کور بھی اس کا احترام کرے گی اور پاسداری کرے گی۔واضح رہے کہ پاسداران انقلاب کور کے بعض سرکردہ ارکان علانیہ امریکا کی قیادت میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔اس معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عاید اقتصادی پابندیاں بھی بتدریج ختم کی جارہی ہیں۔

صدر حسن روحانی نے شام میں جاری تنازعے کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا ہے اور کہا ہے کہ صدر بشارالاسد کو کم سے کم داعش کے انتہا پسندوں کو شکست سے دوچار کرنے تک اقتدار میں رہنا چاہیے۔انھوں نے سوال کیا کہ ہم ایک حکومت کے بغیر دہشت گردوں کو کیسے شکست سے دوچار کرسکتے ہیں؟

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 1979ء سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان کے درمیان تب سے سفارتی تعلقات بھی منقطع ہیں۔دونوں ملکوں میں مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حوالے سے بھی اختلافات پائے جاتے ہیں جبکہ امریکا ایران کو دہشت گردی کا حامی سمجھتا ہے اور وہ اس کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو بھی ہدفِ تنقید بناتا رہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں