ایران کو سدھارنے کے لئے روس کو اسرائیلی پیشکش

'منی شام' بشار الاسد کی حکومت کو طول دینے کا نیا صہیونی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

روس اور اسرائیل کے درمیان لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور ایران کے حوالے سے گہرے نظریاتی اختلافات ہیں مگر دونوں ملک "اعلیٰ سطح" کی معلومات کے تبادلے اور جاسوسی پروگرام میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے ایک نئے زاویے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد ایران اور حزب اللہ کو نکیل ڈالنا ہے۔

العربیہ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو جلد ہی روسی صدر ولادی میر پوٹین کے سامنے دوطرفہ انٹیلی جنس تعاون کے تبادلے کی تجویز پیش کریں گے۔ مجوزہ جاسوسی تعاون کے پروگرام کے تحت اسرائیل روس کو تجویز پیش کرے گا کہ وہ حزب اللہ اور ایران کے بارے میں اسے نہ صرف معلومات فراہم کرے بلکہ کسی بھی وقت ان دونوں 'دشمنوں' کے خلاف جنگ کی صورت میں ماسکو عدم مداخلت کی پالیسی پرعمل پیرا رہے۔

روس اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس کے میدان میں تعاون کا نیا باب جلد ہی کھولنے کی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق پیش آئند ایام میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اپنے وزیر دفاع موشے یعالون کی معیت میں ماسکو کا دورہ کریں گے۔ اس دورے میں اسرائیلی لیڈر شپ روس کی شام میں عسکری موجودگی کے حوالے سے بھی جان کاری کی کوشش کریں گے۔ توقع ہے کہ روس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو اور موشے یعلون کو بتائیں گے کہ ماسکو کی شام میں موجودگی کے مقاصد کیا ہیں۔ کیا روس صرف شام میں اپنے بعض دفاعی مقاصد کے لیے آیا ہے یا وہ یمن اور ایران میں جاری جنگ میں بھی اپنا اپنی کسی سرگرمی کا مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسرائیلی قیادت روس کا دورہ امریکی حکمرانوں سے مشاورت کے بعد کررہی ہے۔ نیتن یاھو نے حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ٹیلیفون پر بات چیت میں اپنے دورہ ماسکو کے بارے میں بھی بات چیت کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم اپنے دورہ روس کے دوران اپنے ہمراہ وہ تمام دستاویزی ثبوت بھی لے جائیں گے جن میں روس سے شام کو فراہم کردہ اسلحہ حزب اللہ کو اسمگل کیے جانے کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے متعدد مرتبہ شام کے اندر حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری اسی لیے کی تھی کہ انہیں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ ماسکو سے آنے والے جنگی سازو سامان کی بھاری مقدار دمشق سے بیروت منتقل کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی وزیراعظم اپنے دورہ روس میں ماسکو کی قیادت سے اس خدشے کا بھی اظہار کریں گے کہ شام میں روسی فوج کی موجودگی تل ابیب کے لیے نہ صرف باعث تشویش ہے بلکہ کسی بھی وقت روسی اور اسرائیلی جنگی طیاروں کا آپس میں بھی تصادم ہو سکتا ہے۔

حالیہ ایام میں ذرائع ابلاغ نے خبریں شائع کیں کہ روس شام کے اہم ساحلی شہر اللاذقیہ میں "الحمیمم" فوجی اڈے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے لیے وہاں پراپنے فوجی اور جنگی سازو سامان جمع کررہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی آئیں کہ روس نے اپنے غوطہ خور ٹینک T.90 کے ساتھ ساتھ زمین سے فضاء میں مار کرنے والے طیارہ شکن SA-22 نامی میزائلوں کی بیٹریاں بھی نصب کردی ہیں۔ یہ میزائل زمین سے 110 کلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے شام اور لبنان میں کہیں بھی اسرائیلی جنگی طیاروں کی کارروائی کی صورت میں یہ میزائل ان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

شام کے پاس روس کے پرانے ماڈل کے جنگی طیارے بھی اسرائیل کے لیے باعث تشویش ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ تشویش "سوخوی 27 جنگی طیاروں کی شامی فوج کے پاس موجودگی ہے۔ نیز اللاذقیہ فوجی اڈے پر روس نے اپنے استعمال کے لیے "سوخوی 24" ماڈل کے جنگی طیارے بھی پہنچا دیے ہیں۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے چند ہفتے قبل انٹیلی جنس کے ذریعے شام کی فضاء میں روسی ہوابازوں کی موجودگی کا بھی سراغ لگا لیا تھا۔ روسی ہوابازوں کی شام کی فضاء جنگی طیارے اڑانے کی خبر اسرائیل کے لیے سخت پریشانی کا موجب بنی تھی۔ اسرائیل کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ روس کے ہواباز اور اس کے جنگی طیارے صرف دولت اسلامی"داعش" ہی کے خلاف آپریشن کے لیے نہیں بلکہ یہ شامی صدر بشارالاسد کی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی ہیں۔

یہی وہ اسباب ہیں جنہیں وزیر اعظم نیتن یاھو اپنے دورہ ماسکو کے دوران روسی قیادت سے بیان کریں گے۔ نیتن یاھو روسی صدر ولادی میر پوتن کو بتائیں گے کہ اگر وہ شام میں حزب اللہ یا اسد نواز کسی گروپ کے خلاف فضائی کارروائی کرتا ہے تو شام میں موجود روسی طیارے، میزائل اور روس کے ہواباز اسرائیلی فوج کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

شام میں روسی فوج کی موجودگی کے خدشات کے علی الرغم تل ابیب ماسکو کی شام میں موجودگی کو خطے میں استحکام کے حوالے سے اہمیت کا حامل بھی گردانتا ہے۔ اسرائیل کا یہ بھی خیال ہے کہ جہاں شام میں موجود روسی اسلحہ اور اس کے فوجی اسرائیل کی کسی بھی سرجیکل اسٹرائیک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں وہیں روس خطے میں استحکام کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسرائیل کا خیال ہے کہ اگر روس شامی صدر بشارالاسد کے زیر کنٹرول بچ جانے والے بعض علاقوں کو باغیوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچاتے ہوئے "منی شام" پر اکتفا کر لیتا ہے تو اس کےنتیجے میں شام کی بغاوت سے اسرائیل کو لاحق خطرات بھی کم ہو جائیں گے۔ چونکہ اس وقت شامی حکومت شمالی اللاذقیہ سے ساحل کے ساتھ ساتھ شمال مغربی دمشق میں الزبدانی تک کی ایک چھوٹی پٹی پر اپنا کںٹرول قائم رکھتی ہے تو اس کے نتیجے میں بشارالاسد کے اقتدارکو بھی طول دیا جا سکتا ہے۔ باغیوں کے قبضے میں چلے جانے والے شام سے اسرائیل کے لیے ایک کمزور اور لاغر بشار الاسد کا شام زیادہ مناسب ہے۔

اگر اسرائیل روس کو اپنے مقاصد کے تحت شیشے میں اتارنے میں کامیاب رہتا ہے تو تل ابیب کی شام، ایران اور حزب اللہ کو نکیل ڈالنے کی منصوبہ بندی بھی کامیاب رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں