دمشق میں روسی سفارت خانے پر گولہ باری کی مذمت

روسی وزارت خارجہ واقعے سے متعلق عالمی برادری کے ردعمل کی منتظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی وزارت خارجہ نے شام کے دارالحکومت دمشق میں اپنے سفارت خانے پر ایک گولہ گرنے کے بعد ''ٹھوس اقدام'' کا مطالبہ کیا ہے۔صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''دمشق میں روسی سفارت خانے کے احاطے میں 20 ستمبر کو صبح نو بجے کے لگ بھگ ایک گولہ گرا تھا،لیکن اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا تھا''۔

''ہم اس مجرمانہ گولہ باری کی مذمت کرتے ہیں۔ہم علاقائی کرداروں سمیت عالمی برادری کے تمام ارکان کی جانب سے دہشت گردی کی اس کارروائی کے حوالے سے ایک واضح موقف کے منتظر ہیں۔اس وقت صرف الفاظ نہیں بلکہ ٹھوس اقدام کی ضرورت ہے''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روسی سفارت خانے پر جوبر کی سمت سے گولہ باری کی گئی تھی۔اس علاقے پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف محاذ آراء باغی جنگجوؤں کا قبضہ ہے۔وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ''جنگجوؤں کے بیرون ملک اسپانسر موجود ہیں اور وہ ان کی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے کے ذمے دار ہیں''۔

دمشق کے علاقے مزرعہ میں واقع روسی سفارت خانے پر قبل ازیں بھی گولہ باری کی جاچکی ہے۔مئی میں سفارت خانے کے نزدیک واقع علاقے میں مارٹر گولے گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔اپریل میں سفارت خانے کے احاطے میں مارٹر گولے گرے تھے اور ان سے تین افراد زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان حالیہ دنوں کے دوران شامی تنازعے پر ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ روس شام میں ایک فضائی اڈے پر اپنی فوجی قوت مجتمع کررہا ہے۔

پینٹاگان نے گذشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ روس شام میں اپنے استعمال کے لیے اللاذقیہ کے نزدیک ایک بڑا ہوائی اڈا بنا رہا ہے اور وہاں فوجی آلات اور فوجیوں کو بھیج رہا ہے۔امریکی حکام انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ دعوے کررہے ہیں کہ روس اپنے اتحادی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں فوجی اور جنگی سازوسامان بھیج رہا ہے۔ان میں ٹینک بھی شامل ہیں لیکن جنگ زدہ ملک میں بھاری فوجی سامان بھیجنے سے متعلق روس کےارادے واضح نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں