شام: زیر حراست فلسطینی پناہ گزینوں سے شرمناک سلوک

گرفتار افراد بشار الاسد اور نصراللہ کی تصاویر کے سامنے سجدہ پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

#شام میں صدر #بشار_الاسد کے اپنی قوم کے خلاف مظالم پچھلے پانچ سال میں کھل کر سامنے آئے ہیں، جہاں بشارالاسد کے وفادار اپنے مخالفین کو بدترین اذیتیں دے کر انہیں قتل کرتے ہیں وہیں مخالفین کو بشار الاسد اور ان کے دیرینہ اتحادی الشیخ #حسن_نصراللہ کی تصاویر کو بھی سجدے کرائے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایسی کئی شرمناک تصاویر گردش کر رہی ہیں۔ ان تصاویر میں دکھائے گئے افراد کی حتمی طور پر تصدیق تو نہیں ہوسکی ہے، تاہم تصاویر میں ساتھ ہی کھڑے لوگوں کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ برہنہ کر کے بشار الاسد اور #حزب_اللہ کے سربراہ الشیخ حسن نصراللہ کی تصاویر کے سامنے جھکائے گئے تمام افراد فلسطینی ہیں جنہیں #حمص میں بم دھماکوں کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔ سزا کے طور پر انہیں اب کپڑے اتار کر صدر بشار الاسد اور ان کے حلیف حسن نصراللہ کی قد آدم تصاویر کو سجدے کرائے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ان تصاویر کی اشاعت کے بعد اسد رجیم کے خلاف غم وغصے اور نفرت کا ایک نیا طوفان برپا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ اور نہایت شرمناک سلوک کرنے پر شامی حکومت اور اس کے کارندوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت فلسطینی پناہ گزینوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ان کے خلاف توہین آمیز ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شام میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین فلسطینی جن مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ ایک طرف فلسطینیوں کو انتہا پسند گروپوں نے گھیر رکھا ہے اور دوسری طرف بشار الاسد کے وفادار فوجی اور ان کے حامی اجرتی قاتلوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ شام میں فلسطینی پناہ گزینوں کو بشارالاسد اور حسن نصراللہ کی تصاویر کو سجدے کرانا یا تصاویر کے سامنے انہیں جھکنے پر مجبور کرنے کا مقصد انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ شامی حکومت ایک طے شدہ اسکیم کے تحت شام سے فلسطینیوں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔ اس لیے معصوم فلسطینیوں کو گرفتار کر کے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور انہیں تشدد کرکے بشار الاسد کی تصاویر کو سجدے کرائے جاتے یا ان کے سامنے جھکانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر فلسطینی پناہ گزین کے طور پر دکھائے گئے افراد کے ساتھ مبینہ طور پر ان کے شناختی کارڈز یا پاسپورٹس بھی دکھائے گئے تاکہ انہیں فلسطینی پناہ گزین ہی ثابت کیا جا سکے مگر اس کے باوجود شک کا پہلو موجود ہے کیونکہ شام میں گلاس میں پانی ڈال کر پینا مشکل اور جعلی پاسپورٹ بنوانا زیادہ آسان ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے نہتے شہریوں کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں بشارالاسد اور حسن نصراللہ کی تصاویر کو سجدے کرانے کے مکروہ ہتھکنڈے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم سے تعبیر کیا ہے۔ شامی فوج اور اس کے حواریوں کے اس اقدام پر فلسطینی برادری کی طرف سے بھی شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں